حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجدِ ایرانیان ممبئی میں رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) اور ان کے ہمراہ شہید ہونے والے دیگر شہداء کی یاد میں مجتمع علماء و خطباء ممبئی کے زیرِ اہتمام ایک پُراثر جلسۂ تعزیت منعقد ہوا، جس میں عروسُ البلاد ممبئی کے ممتاز علمائے کرام نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔

صدرِ مجتمع علماء و خطباء ممبئی مولانا فیاض باقر حسینی نے اپنے خطاب میں رہبرِ معظم کی شہادت پر تمام مؤمنین اور امتِ مسلمہ کو دلی تعزیت پیش کی اور ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ شہداء کے ناحق خون نے پوری دنیا کو بیدار کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماہِ رمضان رحمت و برکت کا مہینہ ہے، مگر اسی مقدس مہینے میں ایران پر جنگ مسلط کی گئی۔ جب ایران نے اپنے دفاع میں متجاوز دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تو پوری دنیا نے حق کی طاقت کا مشاہدہ کیا۔

اس موقع پر مولانا سید عزیز حیدر نے اپنے خطاب میں ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے رہبر کی شہادت کے بعد کی فضا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جو افراد ماضی میں ایران اور رہبر کے مخالف تھے، وہ بھی اس مظلومانہ شہادت پر اشکبار نظر آئے اور اپنے سابقہ رویّوں پر نادم دکھائی دیے۔
میراروڈ سے تشریف لائے ہوئے معزز عالمِ دین، مولانا فیضان حیدر جوادی نے اپنے خطاب کے آغاز میں اس عظیم سانحہ پر مؤمنین کو تعزیت پیش کی، اور اس کے بعد مجتمع علماء و خطباء ممبئی کی کارکردگی کے حوالے سے قیمتی مشورے پیش کیے۔ انہوں نے علماء سے اپیل کی کہ اس خوبصورت علمی و دینی پلیٹ فارم سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں اور اس ادارے کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

کرلا کے امامِ جمعہ مولانا سید غلام عسکری نے اپنی تقریر میں رہبرِ معظم کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تمام مؤمنین کی خدمت میں تعزیت پیش کی اور شہداء کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی زندگی گزارنے کا عہد کیا۔
آخر میں مولانا سید محمد حیدر اصفہانی نے تمام مقررین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں رہبر کی شہادت کے بعد ان کے بتائے ہوئے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے قوم کی بیداری کے لیے جدوجہد کرنا چاہیے، خصوصاً نوجوان نسل کو انقلاب کے افکار سے روشناس کرانا اور انہیں اس کے ثمرات سے مستفید ہونے کے لیے آمادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس کے اختتام پر مجتمع علماء و خطباء ممبئی نے قوم سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں ایران کی ہر ممکن مدد کرنا ہمارا دینی اور انسانی فریضہ ہے۔ بالخصوص مالی امداد کی اشد ضرورت ہے، لہٰذا ایرانی سفارتخانہ یا ایرانی کلچر ہاؤس میں اپنی امدادی رقوم جمع کروا کر ان متاثرین کی مدد کریں جو امریکہ و اسرائیل کی سفاکانہ بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس جلسے میں مندرجہ علماء نے شرکت فرمائی۔
١. مولانا سید عزیز حیدر زیدی صاحب
٢. مولانا کلب جعفر خان صاحب
٣. مولانا کرار خان غدیری صاحب
٤. مولانا مولانا محمد یوسف صاحب
٥. مولانا سید احسن عباس صاحب
٦. مولانا محمد اعظم جعفری صاحب
٧. مولانا سید سرور حسین صاحب
٨. مولانا فیروز علی صاحب
٩. مولانا محمد فیاض باقر صاحب
١٠. مولانا شجر مہدی صاحب
١١. مولانا سید کمال حسن صاحب
١٢. مولانا سید اسد رضا عابدی صاحب
١٣. مولانا سید گلاب حسین صاحب
١٤. مولانا سید شان حیدر رضوی صاحب
١٥. مولانا علی اصغر مشہدی صاحب
١٦. مولانا سید غلام عسکری صاحب
١٧. مولانا سید اسد عباس رضوی صاحب
١٨. مولانا سید اعجاز عباس صاحب
١٩. مولانا حسن حمزہ صاحب
٢٠. مولانا سید کلب حسن رضوی صاحب
٢١. مولانا سید نظر عباس صاحب
٢٢. مولانا سید رضا عباس رضوی صاحب
٢٣. مولانا سید ریحان عباس صاحب
٢٤. مولانا سید افتاب حیدر کاظمی صاحب
٢٥. مولانا علی عباس وفا صاحب
٢٦. مولانا سید عادل حسین زیدی صاحب
٢٧. مولانا سید علی عباس رضوی صاحب
٢٨. مولانا دعبل اصغر خان صاحب
٢٩. مولانا سید فرمان علی موسوی صاحب
٣٠. مولانا سید حسن عباس صاحب
٣١. مولانا سید رضا عباس رضوی صاحب
٣٢. مولانا سید ذوالفقار حسین رضوی صاحب
٣٣. مولانا سید محمد حسین نقوی صاحب
٣٤. مولانا شیخ حاجی محمد نجفی صاحب
٣٥. مولانا مختار بھوجانی صاحب
٣٦. مولانا سید ساجد علی عابدی صاحب
٣٧. مولانا سید عزادار حسین سجادی صاحب
٣٨. مولانا وصی احمد میثم صاحب
٣٩. مولانا راشد عباس صاحب
٤٠. مولانا توثیق عباس باقری صاحب
٤١. مولانا سید ذوالفقار حیدر کربلائی صاحب
٤٢. مولانا یاور حسین صاحب
٤٣. مولانا سید حیدر عابدی صاحب
٤٤. مولانا سید محمد حیدر اصفہانی صاحب
٤٥. مولانا سید نصیر اعظمی صاحب
٤٦. مولانا سید نجیب الحسن زیدی صاحب









آپ کا تبصرہ