حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ ممبئی اور جامعۃ الامام امیر المومنین علیہ السلام (نجفی ہاؤس) کے مدیر حجۃ الاسلام و المسلمین سید احمد علی عابدی نے ایران کی حالیہ تاریخی کامیابی پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ فتح صرف ایک سیاسی یا عسکری کامیابی نہیں بلکہ نصرتِ الٰہی، صبر، استقامت اور توکل علی اللہ کا روشن مظہر ہے۔
اپنے پیغام کے آغاز میں انہوں نے قرآن کریم کی متعدد آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا"، "اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ"، "وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ" اور "وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلٰكِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ"۔ قرآن کریم کی یہ آیات آج اہلِ ایمان کو یہ بشارت دے رہی ہیں کہ "وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ"، یعنی غمزدہ نہ ہو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی سربلند رہو گے۔
پیام میں کہا گیا کہ آج یہی آیات ایرانی قوم کی فتحِ مبین اور استکبارِ جہانی کی ذلت و رسوائی کی زندہ تفسیر بن کر سامنے آئی ہیں۔ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ جس قوم کو کمزور، محصور اور مستضعف سمجھا جا رہا تھا، وہی قوم آج عزت و وقار کے ساتھ کامیاب ہو کر ابھری ہے۔
مدیر جامعۃ الامام امیر المؤمنین علیہ السلام نے قرآن مجید کی آیت "وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اس آیت کا کامل مصداق حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور سے مربوط ہے، تاہم آج اس کے جلوے آج بھی اہلِ ایمان کی استقامت، مزاحمت اور بیداری میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس قوم پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں، جسے تنہا اور کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، اسی قوم نے آج مغرور اور مستکبر طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ان کے بقول، ایران کی یہ کامیابی اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ ایمان، صبر اور استقامت کے سامنے بڑی سے بڑی طاقت بھی بے بس ہو جاتی ہے۔
پیغام میں قرآن کریم کی آیت "يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ" کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ ایران کی یہ عظیم کامیابی دراصل اسی آیت کی روشن تفسیر ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ خداوندِ عالم اس کامیابی کو امتِ مسلمہ کے لیے مبارک اور بابرکت قرار دے۔
امام جمعہ ممبئی نے اپنے پیغام میں اس عظیم کامیابی پر سب سے پہلے حضرت امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی بارگاہِ اقدس میں ہدیۂ تبریک پیش کیا اور اس موقع پر امامِ عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے اس نورانی کلام کا حوالہ دیا: "اِنَّا غَيْرُ مُهْمِلِينَ لِمُرَاعَاتِكُمْ وَلَا نَاسِينَ لِذِكْرِكُمْ"، یعنی ہم تمہاری نگہداشت میں کوتاہی نہیں کرتے، ورنہ دشمن تم پر غالب آ جاتے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں یہ بشارت حقیقت بنتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، کیونکہ اہلِ ایمان نے شدید آزمائشوں اور دباؤ کے باوجود استقامت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔
پیام کے اختتام پر انہوں نے حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، رہبر معظم، ملتِ جوانمرد و بہادر ایران اور تمام مستضعفینِ جہان کی خدمت میں دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ فتح و نصرت کا یہ سلسلہ حضرت کے ظہور تک جاری رہے، دشمنانِ اسلام ذلیل و رسوا ہوتے رہیں، اور وہ مبارک دن جلد آئے جب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کا لعل دنیا بھر میں عدل و انصاف کا پرچم بلند کرے اور استکبارِ جہانی کا مکمل خاتمہ ہو۔









آپ کا تبصرہ