پیر 13 اپریل 2026 - 13:35
قرآن کی روشنی میں جوابی کارروائی کی حدود؛ عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں: ماہرِ فقہ

حوزہ/ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سورہ بقرہ کی آیت 194 کی روشنی میں جوابی فوجی کارروائی کی شرعی حیثیت پر اہم بحث سامنے آئی ہے۔ ایک ماہرِ فقہ نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ قرآن کریم اگرچہ دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں "مقابلہ بہ مثل" کی اجازت دیتا ہے، تاہم اس کی حدود اور قیود بھی متعین ہیں جن کی پابندی ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سورہ بقرہ کی آیت 194 کی روشنی میں جوابی فوجی کارروائی کی شرعی حیثیت پر اہم بحث سامنے آئی ہے۔ ایک ماہرِ فقہ نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ قرآن کریم اگرچہ دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں "مقابلہ بہ مثل" کی اجازت دیتا ہے، تاہم اس کی حدود اور قیود بھی متعین ہیں جن کی پابندی ضروری ہے۔

ماہرِ فقہ کے مطابق مذکورہ آیت «فمن اعتدیٰ علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدیٰ علیکم» اس اصول کی بنیاد فراہم کرتی ہے کہ اگر دشمن حملہ کرے تو اسی نوعیت کا جواب دینا جائز ہے۔ یہ حکم صرف انفرادی سطح تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی اور ریاستی سطح پر بھی قابلِ اطلاق ہے۔ تاہم اس اجازت کو مطلق نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ قرآن کی دیگر آیات اس کے دائرے کو محدود کرتی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عام شہریوں، جیسے خواتین، بچے، بوڑھے اور بیمار افراد کو نشانہ بنانا سختی سے ممنوع ہے۔ اسی طرح جنگی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی یا ان کے قتل کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ مزید برآں، ایسی تباہ کن حکمتِ عملی یا ہتھیار جن سے وسیع پیمانے پر انسانی و ماحولیاتی نقصان ہو، جیسے اجتماعی تباہی کے ہتھیار، ان کا استعمال بھی بنیادی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔

ماہر فقہ نے کہا کہ قرآن میں "مقابلہ بہ مثل" کے مختلف پہلو بیان ہوئے ہیں، جن میں قصاص، جزا اور معاقبہ جیسے مفاہیم شامل ہیں، لیکن ہر صورت میں عدل، تقویٰ اور انسانی اصولوں کو مقدم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ دشمن کی جارحیت کے جواب کا حق مسلم ہے، لیکن اسلامی حکومت اس حق کو استعمال کرتے وقت اخلاقی اور شرعی حدود کی پابند ہوتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بعض حالات میں، جب دشمن کا خطرہ فوری اور شدید ہو اور ردعمل کا موقع باقی نہ رہے، تو "دفاع" بھی "حفظِ نظام" اور "قاعدہ اضطرار" کے تحت جائز ہو سکتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ قرآن کریم نے جہاں دفاع اور جوابی اقدام کی اجازت دی ہے، وہیں اسے اخلاقی حدود کا پابند بھی بنایا ہے، اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا یا غیر انسانی طریقوں کا استعمال کسی صورت جائز نہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha