حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے امریکہ کے صدر کے حالیہ بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں تفرقہ انگیزی کی ناکام کوشش قرار دیا ہے اور ملک میں موجود اتحاد و یکجہتی کو ایران کی سب سے بڑی طاقت بتایا ہے۔
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ ان دنوں ایران کی سب سے نمایاں خصوصیت قومی اتحاد اور داخلی انسجام ہے، جو نظام کے تمام ستونوں میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے فرامین کی روشنی میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ بیان میں اس یکجہتی کو ایک الٰہی نعمت قرار دیتے ہوئے اس پر شکرگزاری کا اظہار بھی کیا گیا۔
بیان میں امریکہ کے صدر کی جانب سے ایرانی ذمہ داران کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوششوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا گیا، جہاں بعض حلقوں کو "انتہا پسند" اور بعض کو "اعتدال پسند" قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ جامعہ مدرسین نے ان بیانات کو حقیقت سے دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی نفسیاتی جنگ اور پروپیگنڈہ مہم کا مقصد صرف داخلی اتحاد کو کمزور کرنا ہے، تاہم ایرانی قوم اور قیادت اس طرح کی سازشوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔
جامعہ مدرسین نے مزید کہا کہ ایران میں تینوں ریاستی ستونوں (مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ)، مسلح افواج اور عوام کے درمیان مضبوط ہم آہنگی اور یکجہتی موجود ہے، جو دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے کافی ہے۔ بیان میں اس اتحاد کو "اقتدار کا بنیادی عنصر" قرار دیا گیا۔
جامعہ مدرسین نے قوم اور ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ دشمن کی نفسیاتی جنگ اور میڈیا پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی ایسی بات یا عمل سے گریز کریں جو داخلی محاذ کو کمزور کر سکتا ہو۔ بیان میں زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں اتحاد اور بیداری ہی دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کا واحد راستہ ہے۔
آخر میں جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے ایک بار پھر قومی یکجہتی کو سراہتے ہوئے اسے برقرار رکھنے کی ضرورت پر تاکید کی اور کہا کہ دشمن کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران کا داخلی محاذ مضبوط اور مستحکم ہے۔









آپ کا تبصرہ