ہفتہ 2 مئی 2026 - 02:46
آغا سید حسن کا کشمیر میں منشیات کے بحران پر شدید انتباہ، اسے ‘خاموش تباہی’ قرار دیا جو پوری نسل کو نگل رہی ہے

حوزہ/ مرکزی امام باڑہ بڈگام میں جمعہ کے خطبے میں جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی الصفوی نے وادیٔ کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک “خاموش تباہی” قرار دیا جو معاشرے کے اخلاقی، روحانی اور سماجی ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی امام باڑہ بڈگام میں جمعہ کے خطبے میں جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی الصفوی نے وادیٔ کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک “خاموش تباہی” قرار دیا جو معاشرے کے اخلاقی، روحانی اور سماجی ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ نوجوان نسل کے خلاف ایک منظم حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو آہستہ آہستہ نوجوانوں کے ایمان، اخلاق اور مستقبل کو نگل رہی ہے، اور اگر اس پر فوری اور سنجیدہ توجہ نہ دی گئی تو اس کے نتائج ناقابل تلافی ہوں گے۔

آغا سید حسن کا کشمیر میں منشیات کے بحران پر شدید انتباہ، اسے ‘خاموش تباہی’ قرار دیا جو پوری نسل کو نگل رہی ہے

انہوں نے حالیہ حکومتی اقدامات، خصوصاً منشیات فروشوں کی جائیدادوں کو سیل کرنے کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات مثبت اور ضروری ہیں جو انتظامی سنجیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اس سنگین بحران سے نمٹنے کے لیے محض ایسے اقدامات کافی نہیں ہیں بلکہ ایک جامع، مستقل اور غیر متزلزل حکمت عملی کی ضرورت ہے، نہ کہ وقتی یا علامتی اقدامات کی۔

قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سورۃ المائدہ (5:90) کی آیت کا ذکر کیا، جس میں نشہ آور اشیاء کو شیطانی عمل قرار دے کر ان سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ منشیات کا استعمال صرف ایک بری عادت نہیں بلکہ ایک تباہ کن قوت ہے جس کے خلاف اجتماعی اور فیصلہ کن مزاحمت ضروری ہے۔

آغا حسن نے مزید کہا کہ اس ناسور کے خاتمے کی ذمہ داری صرف حکومت تک محدود نہیں بلکہ معاشرے کے ہر طبقے پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ منشیات کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑا جائے، سرحدوں اور اندرونی راستوں پر نگرانی کو مؤثر بنایا جائے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور نشے کے عادی افراد کے لیے مؤثر بحالی مراکز قائم کیے جائیں۔

ساتھ ہی انہوں نے والدین کو تلقین کی کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت، صحبت اور روزمرہ سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں، کیونکہ گھریلو غفلت کے نتائج نہایت تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اساتذہ کے کردار کو بھی نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم صرف نصابی حد تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس میں کردار سازی اور اخلاقی تربیت بھی شامل ہونی چاہیے۔

آغا سید حسن کا کشمیر میں منشیات کے بحران پر شدید انتباہ، اسے ‘خاموش تباہی’ قرار دیا جو پوری نسل کو نگل رہی ہے

انہوں نے معاشرے سے اپیل کی کہ وہ خاموشی توڑے، منشیات کے استعمال کو معمول بنانے کے رجحان کو مسترد کرے اور اس کے خلاف عملی مزاحمت کرے۔ علمائے دین کے کردار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے منبروں سے آگاہی پیدا کریں، نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور یہ پیغام عام کریں کہ حقیقی عزت اور سکون اللہ کی اطاعت میں ہے، نہ کہ نشے کی تاریکی میں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر آغا حسن نے خبردار کیا کہ اگر آج اس مسئلے کا سنجیدگی سے حل تلاش نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں موجودہ نسل کو معاف نہیں کریں گی۔ انہوں نے اتحاد، بیداری اور اجتماعی عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس خطرے کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

خطبہ ایک مضبوط اجتماعی اپیل کے ساتھ اختتام پذیر ہوا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ منشیات کے خلاف جنگ کو ایک مشترکہ مشن بنایا جائے، جس میں ادارے، خاندان اور افراد سب برابر کے شریک ہوں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha