اتوار 3 مئی 2026 - 19:58
معلمی محض علم کی منتقلی کا نام نہیں / استاد کا ایک معمولی سا عمل یا مختصر جملہ کبھی شاگرد کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے

حوزہ / حوزه علمیہ قم کے نائب مدیر نے شہید لاریجانی کے علمی اور ملی میدانوں میں کردار پر زور دیتے ہوئے ان کی شہادت کو اخلاص، تعہد اور مخلصانہ خدمت کا مظہر قرار دیا جو ملکی عزت اور اقتدار کی راہ میں پیش کی گئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزه علمیہ قم کے نائب مدیر حجت الاسلام والمسلمین ملکی نے ڈاکٹر علی لاریجانی کے چالیسویں کے موقع پر منعقدہ مجلس عزا جو قم کے امام علی بن موسی الرضا(ع) کی قرآنی علمیہ مدرسہ میں منعقد ہوئی، میں اسلامی تعلیمات میں معلم کے بلند مرتبے پر زور دیتے ہوئے کہا: کائنات میں پہلا معلم خداوند متعال ہے اور اس کے بعد انسان کی تمام تر ترقی، بلندی اور روحانی نشوونما معلموں کے کردار کی مرہون منت ہے۔

انہوں نے کہا: معلمی محض علم کی منتقلی کا نام نہیں ہے۔ حقیقی معلم وہ ہے جو اپنے علم پر عمل کرے کیونکہ علم جو انسان کے رویے اور زندگی پر اثر نہ ڈالے نہ صرف راہنما نہیں ہوتا بلکہ "حجاب اکبر" بن سکتا ہے۔ معلم کا اثر تب حقیقت بنتا ہے جب اس کا علم اس کے رویے، خاندان اور معاشرے میں ظہور پذیر ہو۔

حوزه علمیہ قم کے نائب مدیر نے معلّم کے کلام کے اثر کا سب سے اہم عامل، علم و عمل کا ربط قرار دیا اور کہا: استاد کو چاہیے کہ وہ کلاسِ درس میں ایک جملے، آیت یا حدیث کے ذریعے مخاطب کی روح کو بدل دے۔ کبھی استاد کا ایک معمولی سا عمل یا مختصر جملہ شاگردوں کی زندگی کا رخ موڑ سکتا ہے۔

حجت‌ الاسلام والمسلمین ملکی نے معلّم کے کردار کا دوسرے پیشوں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا: ڈاکٹر انسان کے جسم سے سروکار رکھتا ہے جبکہ معلّم انسان کی جان اور روح سے مربوط ہوتا ہے اور اسی وجہ سے اس کی ذمہ داری کہیں زیادہ سنگین ہے۔ انسان لامحدود صلاحیتوں کا حامل ہے اور ان استعدادوں کو پروان چڑھانا استاد کے اختیار میں ہے۔

اُنہوں نے مرتضیٰ مطہری کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: اس عظیم الشان شہید کی تصانیف اب بھی نوجوان نسل کی فکری اور اعتقادی تربیت کے لیے ایک بھرپور سرچشمہ ہیں اور ان پر پہلے سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha