حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم حضرت معصومہ (س) کے خطیب حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر ناصر رفیعی نے کہا: دشمن فطرتاً دشمنی کرتا ہے اور اسے کبھی دوست نہیں سمجھنا چاہیے۔ خداوند عالم نے قرآن کریم میں دشمن کی چار خواہشات بیان کی ہیں اور فرمایا ہے کہ دشمن چاہتا ہے کہ تم مشقت اور سختی میں رہو، اپنے ہتھیاروں اور فوجی طاقت سے غافل ہو جاؤ، اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جاؤ اور کافر ہو جاؤ۔
انہوں نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 69 کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: خداوند اس آیت میں فرماتا ہے کہ بعض یہودی چاہتے ہیں کہ تم مسلمانوں کو گمراہ کر دیں۔ دشمن صرف فوجی جنگ نہیں لڑتا بلکہ اعتقادی اور ثقافتی جنگ بھی لڑتا ہے اور پروپیگنڈوں اور شبہات کے ذریعے نوجوانوں کے عقائد کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین ناصر رفیعی نے کہا: یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں فوجی میدان میں کامیاب نہ ہوئے لیکن انہوں نے اپنی تبلیغی سرگرمیاں ختم نہیں کیں۔ وہ مدینہ کے دو نوجوان مسلمانوں کو اسلام سے خارج کرکے اپنے ساتھ شام لے جانے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد آیت "لَا إِکْرَاهَ فِی الدِّینِ" نازل ہوئی جس کے مطابق دین جبر و زبردستی سے قابل قبول نہیں ہے۔
حرم حضرت معصومہ (س) کے خطیب نے موجودہ دور میں دشمن کی وسیع میڈیا سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج یہودی اور عیسائی نیٹ ورکس موساد اور عالمی استکبار کے بجٹ سے نوجوانوں کے عقائد کو منحرف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور گھریلو گرجا گھروں میں آسان اور روانی زبان میں عیسائیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔
حجت الاسلام والمسلمین رفیعی نے آیت "لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّی وَ عَدُوَّکُمْ أَوْلِیَاءَ" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دشمن کا کام دشمنی کرنا ہے جس طرح بچھو کا کام ڈنک مارنا ہے اور دشمن بھی فطرتاً دشمنی کرتا ہے۔ دشمن کو کبھی دوست نہیں سمجھنا چاہیے۔









آپ کا تبصرہ