جمعرات 22 جنوری 2026 - 18:32
حوزاتِ علمیہ اور ثقافتی مراکز دشمن کے حملوں میں فرنٹ لائن پر ہیں

حوزہ / حوزہ علمیہ خراسان جنوبی کے مدیر نے کہا: حالیہ واقعات کو "احتجاج یا ہنگامہ" نہیں کہا جا سکتا بلکہ صہیونی اور عالمی استکبار دشمن کی مکمل جنگ کا تسلسل ہے۔ ثقافتی اور مذہبی مراکز بشمول مدارس علمیہ آج فوجی اڈوں کی طرح دشمن کے براہ راست حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کے دوران حوزہ علمیہ خراسان جنوبی کے مدیر حجت الاسلام والمسلمین علی رستمیانی نے کہا: حالیہ واقعات کو صہیونی اور عالمی استکبار دشمن کی طرف سے ایک جامع جنگ کا تسلسل سمجھنا چاہیے۔ یہ رجحان دراصل اسی 12 روزہ جنگ کا تسلسل ہے۔ ہم اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ صرف 12 روزہ جنگ تھی بلکہ یہ ہنگامے بھی امریکی صہیونی دشمن کی طرف سے اسی دہشت گردانہ جنگ کا تسلسل تھے۔

انہوں نے کہا: ہم فوجی، اقتصادی اور سماجی محاذوں پر جو دیکھ رہے ہیں وہ ایک کھلی اور منظم جنگ کا حصہ ہے جس کی نوعیت مکمل طور پر دہشت گردانہ ہے اور اس کا آخری مقام جمہوریہ اسلامی ایران کے نظام کو تباہ کرنا ہے جو مزاحمتی محاذ کے دل کے طور پر ہے۔

حوزہ علمیہ خراسان جنوبی کے مدیر نے حالیہ واقعات میں قائنات، سرایان اور فردوس کے حوزاتِ علمیہ کو پہنچنے والے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: حوزاتِ علمیہ نظامِ اسلای کے ثقافتی مورچے ہیں اور طلباء اس محاذ کے سپاہی ہیں جیسا کہ جنگ کے آغاز میں، فوجی اڈوں اور ریڈارز پر حملہ کیا گیا تھا، دینی و ثقافتی دارے بشمول مساجد، مقدس مقامات، لائبریریوں اور ثقافتی مراکز بھی دشمن کے حملے کا نشانہ بنے ہیں۔

حجت الاسلام والمسلمین رستمیانی نے کہا: دشمن اچھی طرح جانتا ہے کہ اسلامی ثقافت اور فکر کے اصل محافظ کون ہیں اور انہوں نے بالکل ان حساس نکات پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ان حملوں کا معاشی یا اقتصادی احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha