حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی ریاست کے ایک فوجی نے جنوبی لبنان میں ایک مسیحی گاؤں میں جا کر حضرت مریم علیہا السلام کے مجسمے کے منہ میں سگریٹ رکھ دیا، جس سے مسیحی برادری کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔
یہ گستاخانہ اقدام مسیحی آبادی والے گاؤں "دبل" میں کیا گیا۔ اس سے قبل تقریباً ایک ماہ پہلے بھی اسی علاقے کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں ایک اسرائیلی فوجی ہتھوڑے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کا سر توڑتا دکھائی دیا تھا۔
عالمی سطح پر شدید تنقید اور مذمت کے بعد اسرائیلی فوج کو مجبوراً دو فوجیوں کو نام نہاد گرفتار کر کے نکالنا پڑا تھا، لیکن حضرت مریم کے مجسمے کے ساتھ یہ نیا گستاخانہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ صیہونی فوجیوں میں مقدسات کی توہین کی یہ عادت جڑ پکڑ چکی ہے۔ ظاہری اور جبری سزائیں بھی انہیں روکنے میں ناکام رہی ہیں۔
یہ واقعہ صیہونی افواج کے اخلاقی زوال اور مذاہب الٰہی کے تئیں ان کی انتہائی دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔









آپ کا تبصرہ