حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض کی رحلت پر مراجعِ عظام اور دینی شخصیات کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں مرجعِ عالی قدر آیت اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیر حسین نجفی نے ایک پُرسوز تعزیتی بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے مرحوم مرجعِ تقلید کی علمی، دینی اور حوزوی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں حوزۂ علمیہ نجف کا ایک شفیق، مخلص اور محافظ عالم قرار دیا ہے۔
آیت اللہ بشیر نجفی نے اپنے پیغام میں مرحوم کے بلند علمی مقام، علماء سلف سے گہرے تعلق اور دینِ اسلام کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے انتقال کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔
تعزیتی بیان کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اللہ تعالیٰ کے عظیم ترین ایّام میں سے ایک عظیم دن میں، ہم صبر و ایمان سے سرشار دلوں اور اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے وعدۂ حق پر کامل یقین رکھتے ہوئے—طائفۂ حقّہ کے ایک عظیم المرتبت رہنما اور اسلام کے جلیل القدر عالم، حضرت آیت اللہ العظمیٰ، مرجعِ دینیِ کبیر، شیخ محمد اسحاق فیاض قدس سرّہ الشریف کے سانحۂ ارتحال پر تعزیت و سوگ کا اظہار کرتے ہیں۔
ہم اس عظیم سانحۂ ارتحال اور اس جانکاہ مصیبت کے موقع پر، جس سے اسلام میں ایک عظیم رخنہ پیدا ہوا ہے، اپنی پرخلوص تعزیت بارگاہِ ولیِّ اعظمِ الٰہی، حضرت امام حجّت بن الحسن عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف — جن پر ہماری جانیں قربان ہوں — کی خدمت میں، نیز علمائے اسلام، حوزاتِ علمیہ، مرحوم کےمعزز و مکرم خاندان، اور عموم مؤمنین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔
رضوانُ اللہ تعالیٰ علیہ حوزۂ علمیہ کے لیے ایک شفیق، مہربان اور بزرگ بھائی کی حیثیت رکھتے تھے، جو پوری دل سوزی اور اخلاص کے ساتھ اس حوزۂ مقدسہ کی حفاظت، پاسبانی اور صیانت میں مصروف رہے۔ انہوں نے علم کے چشموں سے خوب سیرابی حاصل کی اور اس کے گہرے معارف میں غوطہ زن ہوئے، یہاں تک کہ خود اہلِ علم کے لیے مرجع اور منبعِ فیض بن گئے ۔ اور ہمارے عظیم علمائے کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کے ساتھ اس قدر گہرا تعلق اور وابستگی اختیار کی کہ ان کے وصال کے بعد وہی ہماری تسلی، سہارا اور یادگار بن گئے۔
آج ہم سے نجفِ اشرف کے شیخ رخصت ہو گئے تاکہ حوضِ کوثر پر امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی بارگاہ میں اپنی وفاداری اور ولایت کے عہد کی تجدید کریں۔
إنّا لله وإنّا إليه راجعون، ولا حول ولا قوّة إلا بالله العليّ العظيم
بشير حسين النّجفيّ
١٨ ذی الحجة الحرام ١٤٤٧ هجری









آپ کا تبصرہ