حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم/ریمدان/تفتان:ایران کے حوزاتِ علمیہ میں زیرِ تعلیم پاکستان سے تعلق رکھنے والے طلابِ علومِ دینیہ، گرمیوں کی تعطیلات کے دوران و ماہ عزاء کی تبلیغ کے حوالے سے وطن واپسی میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ریمدان اور تفتان بارڈر پر سیکیورٹی کانوائے کے نام پر طلبہ اور علماء کرام کو کئی کئی دن تک روکے رکھا جا رہا ہے، جبکہ شدید گرمی اور نامساعد حالات نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
متاثرہ طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ قانونی تقاضوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن غیر ضروری تاخیر، ناقص انتظامات اور طویل انتظار نے انہیں شدید ذہنی و جسمانی اذیت سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان اور متعلقہ ادارے فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں اور وطن واپس آنے والے طلبہ و علماء کے لیے سہولتیں فراہم کریں۔

قم المقدسہ میں زیر تحصیل عارف حسین نے اپنے ایک پیغام میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ: "اپنے ہی ملک میں علماء کرام اور طلبہ کی تذلیل کب تک؟" انہوں نے کہا کہ ریمدان بارڈر پر حکومت کی جانب سے کانوائے کے نام پر علماء کرام اور طلبہ کو بلاجواز روکنا اور انہیں غیر ضروری اذیت میں مبتلا کرنا افسوسناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ ان کے مطابق جو افراد دین، قوم اور ملت کی خدمت کے جذبے سے سفر کر رہے ہیں، ان کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت مناسب نہیں۔

دوسری جانب قم میں زیرِ تعلیم بلوچ طالب علم مولانا حیدر علی ڈومکی نے بھی اپنے فیس بک بیان میں بلوچستان حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ: "بلوچستان حکومت کی ناجائز رکاوٹیں قابلِ مذمت ہیں۔ علماء کرام کو ریمدان بارڈر پر بلاجواز کانوائے کے نام پر اذیت دی جا رہی ہے، جو تمام قانونی اور انسانی اصولوں کے خلاف ہے۔" انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے اور علماء و طلبہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا خاتمہ کیا جائے۔

طلبہ، علماء اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرحدی گزرگاہوں پر موجود انتظامی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے، کانوائے کے نظام پر نظرثانی کی جائے اور وطن واپس آنے والے طلابِ علومِ دینیہ کو شدید گرمی میں غیر ضروری انتظار اور مشکلات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔









آپ کا تبصرہ