حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لاہور پاکستان میں شیعہ علماء کونسل کے زیر اہتمام "امام حسین علیہ السلام امن کانفرنس" کا پروقار انعقاد کیا گیا۔ دیوان سلمان فارسی ہال، محمدی مسجد حالی روڈ میں منعقدہ اس اہم کانفرنس کی صدارت رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان اور چیئرمین امام خمینی ٹرسٹ، علامہ سید افتخار حسین نقوی نجفی نے کی۔
اس کانفرنس میں تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء، مبلغین اور مشائخِ عظام نے شرکت کی، جس کا مقصد موجودہ دور کے چیلنجز کے تناظر میں امن، سلامتی اور اسلامی اتحاد کے پیغام کو عام کرنا تھا۔

مقررین نے اپنے پر اثر خطابات میں امام حسین علیہ السلام کی عظیم قربانی کو انسانیت کی بقا اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے ایک لازوال مثال قرار دیا۔
مقررین کا کہنا تھا کہ کربلا کا میدان دراصل امن کا وہ مرکز ہے جہاں امام حسینؑ نے اپنی قربانی کے ذریعے دنیا کو یہ سکھایا کہ حقیقی امن صرف اور صرف عدل و انصاف اور حق کی سربلندی سے ہی ممکن ہے۔

اس موقع پر علامہ سید افتخار حسین نقوی نے امام حسینؑ کی شہادت کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ حق اور باطل کے درمیان اس دائمی معرکے کا نقطہ آغاز ہے جس نے رہتی دنیا تک ظلم کے سامنے سر نہ جھکانے کا درس دیا۔ آپؑ نے تپتے ہوئے صحراء کی شدت اور پیاس کی سختی کو اپنے نانا حضرت محمد مصطفیٰ کے دین کی حفاظت کے لیے برداشت کیا، لیکن طاغوتی اور باطل قوتوں کے سامنے جھکنے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی۔ آپؑ نے ثابت کر دیا کہ اسلام کی بقا باطل کے سامنے سمجھوتہ کرنے میں نہیں، بلکہ حق پر ڈٹ جانے اور جان قربان کرنے میں ہے۔
علامہ سید افتخار حسین نقوی نے شرکاء کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کو ایک اہم پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ تمام مسلکی اور فرقہ وارانہ اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کیا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر ان کے مذموم مقاصد پورے کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لہٰذا ہمیں متحد ہو کر ان کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔









آپ کا تبصرہ