۶ آبان ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 28, 2021
علماء کرام اور قائد طلبہ کے داخلہ پر پابندی

حوزہ/ مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان اور علماء کرام پر چنیوٹ داخلہ پر بلاجواز پابندی غیر آئینی اور اظہار رائے کی آزادی کے منافی ہے، فی الفور پابندی ہٹائی جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر عارف حسین الجانی سمیت چار علماء کرام پر ضلع چنیوٹ میں داخلہ پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔

آئی ایس او پاکستان کے ترجمان مہر عباس نے علماء کرام اور طلبہ تنظیم آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر پر پابندی کو بلاجواز اور بے بنیاد قرار دیا ہے ۔مہر عباس کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں عقائد کے اظہار اور حقِ اظہار رائے سے روکنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے۔ہم  حقیقی اسلام کی ترویج اور اتحاد بین المسملین کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں ہم سے عقائد کے اظہار پر خاموشی کی خواہش کرنا غیر آئینی مطالبہ ہے ۔ملت تشیع پاکستان نے ہمیشہ امن و سلامتی کو ترجیح دی ہے اور دلیل کی بنیاد پر اختلاف کیا ہے ۔

مہر عباس کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ چنیوٹ کی پُر امن اور محب وطن علماء کرام پر بلاجواز پابندی مُلک دشمن اور تکفیری عناصر کو کھُلی چھٹی دینے کے مترادف ہے علماء کرام اور قائد طلبہ پر پابندی کے بعد ملت تشیع پاکستان اور بالخصوص آئی ایس او پاکستان کے کارکنان میں تشویش پائی جاتی ہے آخر ایک ہی مسلک کے جوانوں اور علماء کرام کو کبھی لاپتہ کیا جاتا ہے ،کبھی اسیر کیاجاتا ہے تو کبھی بے بنیاد مقدمات سے ہراساں کیا جاتا ہے ۔آئی ایس او پاکستان کے۔

ترجمان کا  مزیدکہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ قانون کی پاسداری کی ہے ہمارے صبر و تحمل کوہرگز کمزوری مت سمجھاجائے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ علماء کرام اور مرکزی صدر پر چنیوٹ داخلہ پرپابندی کو فوری طور پر ختم کیاجائے ۔

چنیوٹ؛ علماء کرام اور قائد طلبہ کے داخلہ پر پابندی
ضلعی انتظامیہ تکفیری عناصر کی ایماء پر اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رہے

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
9 + 2 =