حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین سید رحیم توکل نے ہیئت فاطمیہ قم میں منعقدہ محرم الحرام کی چھٹی مجلس عزا میں خطاب کے دوران امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے نورانی ارشاد «فِی تَقَلُّبِ الأَحْوَالِ عُلِمَ جَوَاهِرُ الرِّجَالِ» کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: زمانے کی تبدیلیاں اور زندگی کے نشیب و فراز وہ میدان ہیں جن میں انسانوں کی حقیقت اور وجودی جوہر پہچانا جاتا ہے اور لوگوں کا اصل چہرہ مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرتے ہوئے ظاہر ہوتا ہے۔
انہوں نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر 142 «أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِینَ جَاهَدُوا مِنکُمْ وَ یَعْلَمَ الصَّابِرِینَ» سے استناد کرتے ہوئے مزید کہا: اللہ تعالیٰ مؤمنین کو متنبہ کرتا ہے کہ جنت میں داخلہ صرف ایمان کے دعوے سے ممکن نہیں بلکہ جہاد، صبر اور الٰہی آزمائشوں میں کامیابی ہی انسان کے حقیقی ایمان کا معیار ہے۔
حوزہ علمیہ کے اس استاد نے سورہ منافقون کی تیسری آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتا ہے: «آمَنُوا ثُمَّ کَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَیٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُونَ»؛ انہوں نے پہلے ایمان لائے پھر کفر کا راستہ اختیار کیا اور اس کے نتیجے میں ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی اور وہ حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئے۔
انہوں نے مزید کہا: جب انسان کا دل انحراف اور گناہ کے سبب مہر خوردہ ہو جاتا ہے تو حق کلام بھی اس میں اثر نہیں کرتا جیسا کہ امام حسین علیہالسلام کے اقوال اور وعظ و نصیحتیں کوفہ کے لوگوں کے دلوں میں نفوذ نہ کر سکیں۔









آپ کا تبصرہ