منگل 23 جون 2026 - 17:43
میڈیا کس طرح حسینی طرزِ زندگی کے فروغ میں مدد کر سکتا ہے؟

حوزہ / آج اسلامی معاشرے میں ذمہ دار اور معاشرہ کے فکرمند میڈیا کے لیے حسینی اور زینبی طرزِ زندگی کی تبیین اور فروغ کے لیے بامقصد اور مسلسل کوشش سب سے اہم فرائض میں سے ایک ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، موجودہ دنیا میں جہاں میڈیا نے عملی طور پر جغرافیائی حدود کو عبور کر لیا ہے اور انسانی ذہن اور رویے کی انجینئرنگ میں کردار ادا کر رہا ہے، وہاں حسینی اور زینبی طرزِ زندگی سے متعلق شاخصوں کی وضاحت کوئی ثقافتی انتخاب نہیں بلکہ اسلامی اور شیعی معاشرے کی بلند مرتبت شناخت کے تحفظ کے لیے ایک ناگزیر ضرورت سمجھی جاتی ہے۔

امام صادق(ع) ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی علمی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر مہدی اسلامی نے کہا: حسینی طرزِ زندگی سب سے بڑھ کر عزت، آزادی اور ایثار کے گرد گھومتا ہے اور اس کا مطلب حق اور عدالت کی بلندی کے لیے ذاتی مفادات سے گزرنا ہے اور یہ کہ انسان جان لے کہ اللہ کی بندگی کی راہ میں اسے اپنی نفسانی خواہشات اور مطالبات سے گزرنا پڑے گا تاکہ دنیا اور آخرت کی حقیقی سعادت حاصل کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا: دوسری طرف زینبی طرزِ زندگی بصیرت، جہادِ تبیین اور جذباتی انتظام جیسے اجزاء کے گرد استوار ہے اور یہاں دھمکیوں اور مشکلات کو فرصت میں تبدیل کرنے کی طاقت کا ذکر روشن گری اور اسٹریٹجک صبر کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ان معاملات میں حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا عروج پر ہیں۔

ڈاکٹر مہدی اسلامی نے کہا: میڈیا اس دوران خصوصاً اسلامی معاشرے میں رائے عامہ کے معمار ہونے کے ناطے ان شاخصوں اور مفاہیم کو تجریدی الفاظ کے دائرے سے نکال کر معاشرے کی روزمرہ زندگی میں ٹھوس طرزِ عمل کے نمونوں کی صورت میں نافذ کرنے کے پابند ہیں کیونکہ یہ بلند مفاہیم ماہرانہ اور میڈیا کام کی بدولت ہی درست طور پر واضح اور فروغ پاتے ہیں۔

انہوں نے کہا: اس زمانے میں جب معنویت کی طرف رجوع کا شور مغرب اور مشرق میں کسی بھی دوسرے وقت سے زیادہ بلند ہے، حسینی طرزِ زندگی کی تصویر کشی اور اس کے فروغ کے لیے ہر طرح کی کوشش ایک ناقابلِ تردید ضرورت ہے، خاص طور پر ہماری طرف سے جو خود کو شیعہ اور حضرت اباعبداللہ علیہ السلام کا محب سمجھتے ہیں۔

ڈاکٹر مہدی اسلامی نے مزید کہا: انسانی وقار کے تحفظ اور بلندی پر توجہ اگلا اہم موضوع ہے جسے ہم حضرت ثاراللہ علیہ السلام کی سیرت اور نورانی کلام میں عیاں دیکھتے ہیں اور بنیادی طور پر انسان اسی مکتب اور نظام میں ہے کہ وقار کے ساتھ سعادت تک پہنچتا ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا: جو بھی میڈیا کی سرگرمی کے میدان میں ہے اور فن اور میڈیا کے ذریعے اس سلسلے میں بھرپور، پرکشش اور مؤثر مواد تیار کر سکتا ہے، وہ پابند ہے کہ اپنی استطاعت اور وسعت کے مطابق حسینی مکتب کے حقائق کے فروغ کے لیے کوشش کرے کیونکہ اس سلسلے میں بامقصد اور مخلصانہ کوشش امام حسین علیہ السلام کے نظام میں ثابت قدمی کے لیے ضروری ہے اور ان شاءاللہ کہ اللہ کے فضل اور خود حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی خاص توجہ سے ہم سب اس عظیم آزمائشِ جہادِ تبیین میں کامیاب اور مؤید ہوں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha