ہفتہ 11 جولائی 2026 - 10:28
جنابِ فاطمہ زہراء؛ مدافعِ ولایت و امامت

حوزہ/جنابِ فاطمہ زہراء (س) کی سیرت کا ہر پہلو، خواہ وہ اخلاقی ہو یا سیاسی، توحید اور امامت کے دفاع کے محور کے گرد گھومتا ہے۔ آپ دینی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں تمام خواتین کے لیے بہترین نمونۂ عمل ہیں۔ رات کے سناٹے میں آپ کا دفن ہونا اور آج تک آپ کی قبرِ مبارک کا مخفی رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے دفاعِ ولایت میں کسی فرصت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

تحریر: انیلہ نضیر، جامعۃ المصطفیٰ کراچی

حوزہ نیوز ایجنسی| جنابِ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی سیرت کا ہر پہلو، خواہ وہ اخلاقی ہو یا سیاسی، توحید اور امامت کے دفاع کے محور کے گرد گھومتا ہے۔ آپ دینی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی میدانوں میں تمام خواتین کے لیے بہترین نمونۂ عمل ہیں۔ رات کے سناٹے میں آپ کا دفن ہونا اور آج تک آپ کی قبرِ مبارک کا مخفی رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے دفاعِ ولایت میں کسی فرصت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا، حتیٰ کہ اپنی جان بھی اس راہ میں قربان کر دی۔

رسولِ اکرم (ص) کی رحلت کے بعد جب اہلِ بیتؑ کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا اور بعض لوگوں نے اقتدار اور دولت کی لالچ میں اہلِ بیتؑ کے مقام و منزلت کو کم کرنے کی کوشش کی، ایسے نازک وقت میں اگر حضرت زہرا (س) ولایت اور حقِ امامت کا دفاع نہ کرتیں تو شاید آج اسلامِ نابِ محمدیؐ اپنی حقیقی صورت میں محفوظ نہ رہتا۔ حضرت زہرا (س) نے حضرت علیؑ کے لیے ایک مضبوط سیاسی حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کیا۔ آپ کی جدوجہد نے حق کو تاریخ میں ثبت کیا اور سوئے ہوئے معاشرے پر حجت تمام کر دی۔

بنت رسول کا گریہ

آپ کا گریہ صرف اپنے بابا کی جدائی کا غم نہیں تھا، بلکہ دفاعِ ولایت و امامت کا ایک مؤثر ذریعہ تھا۔ حضرت زہرا (س) کا احتجاج مکمل طور پر منطقی اور بامقصد تھا۔ آپ لوگوں کو بیدار کرنے اور حق کی طرف متوجہ کرنے کے لیے بقیع تشریف لے جاتیں اور وہاں گریہ و زاری کے ذریعے ولایت و امامت کا پیغام لوگوں تک پہنچاتیں۔ یوں آپ نے دشمنوں کی سازشوں کو بےنقاب کیا اور اپنے عمل سے واضح کر دیا کہ جہادِ تبیین ہر دور کی اہم ضرورت ہے۔

بے مثال خطبات

شہزادیِ کونین (س) نے اپنے مضبوط استدلال، عظیم خطبات اور فصیح و بلیغ بیانات کے ذریعے ولایت کا دفاع فرمایا اور مولا علیؑ کی بے مثال شخصیت کو امت کے سامنے پیش کیا۔ آپ واضح کرتی تھیں کہ امت میں کوئی بھی حضرت علیؑ کے ہم پلہ نہیں۔ کبھی آپ ایسے فضائل بیان فرماتیں جن کا انکار مخالفین بھی نہ کر سکتے تھے اور لاجواب ہو کر انہیں تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے اور کبھی مختلف انداز سے جانشینِ رسولؐ کا تعارف کرواتیں اور ولایت کا پیغام پہنچاتیں۔

شہید مطہری کے فکری تجزیے کے مطابق، خطبۂ فدکیہ حضرت فاطمہ زہراء (س) کی سیرت میں دفاعِ ولایت کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ اس خطبے میں آپ واضح کرتی ہیں کہ امت کی وحدت کا دارومدار مرکزِ امامت کو تسلیم کرنے میں ہے، اور امامت کے حق کو غصب کر کے مسلمانوں کو تفرقے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا (س) کی زندگی کا مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ نے سخت ترین حالات میں بھی اپنے وقت کے امام کا دفاع کرنے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ یہ دفاع صرف ایک شوہر کا دفاع نہیں تھا، بلکہ امامِ وقت کا دفاع تھا۔ آپ جانتی تھیں کہ رسولِ خدا (ص) سے کیا گیا عہد توڑا جا چکا ہے، اس لیے اب امامت کے دفاع کی اشد ضرورت ہے۔ آپ کی زندگی کی ہر سانس گویا یہ اعلان کر رہی تھی:

"میں اپنے امام کی نصرت میں ہوں، کیونکہ یہی اطاعتِ خدا ہے۔"

جنابِ زہرا (س) نے ہمیں یہ درس دیا کہ امام کا دفاع صرف مردوں کی ذمہ داری نہیں، بلکہ جس عورت کے دل میں ایمان ہو، وہ بھی اپنے امام کا دفاع کر سکتی ہے۔

خداوندِ عالم سے دعا ہے کہ ہمیں بھی اپنے وقت کے امامؑ کے ظہور کے لیے راہ ہموار کرنے اور ان کے حقیقی مددگاروں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha