ہفتہ 8 اگست 2026 - 18:28
17 مرداد / 8 اگست کو ایران میں ’’یومِ صحافت‘‘ کیوں قرار دیا گیا؟

حوزہ / شہادتِ محمود صارمی نے ان کے نام کو ایک صحافی کی حیثیت سے آگے بڑھاتے ہوئے ایران کی صحافتی تاریخ میں آگاہی اور حق گوئی کی ذمہ داری کی ایک لازوال علامت بنا دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 17 مرداد / 8 اگست، یومِ صحافت کے موقع پر شہید محمود صارمی کی زندگی اور ان کے آخری صحافتی مشن پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایران کی صحافتی تاریخ میں ان کا نام کس طرح ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔

بعض اوقات کیلنڈر میں درج کوئی دن صرف ایک مناسبت کی یاد نہیں دلاتا بلکہ ایسے انسان کی استقامت کی یاد بھی تازہ کرتا ہے جس نے آخری لمحے تک اپنی ذمہ داری اور رسالت کو فراموش نہیں کیا۔

17 مرداد بھی ایسا ہی ایک دن ہے؛ وہ دن جو شہید محمود صارمی کے نام سے جڑا ہوا ہے اور ان تمام صحافیوں کے احترام میں ’’یومِ صحافت‘‘ قرار دیا گیا ہے جو حقیقت کی ترجمانی کے لیے اپنی جان تک خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

مزار شریف میں شہید محمود صارمی کا آخری مشن

سنہ 1377 ہجری شمسی / 1998ء میں افغانستان شدید بدامنی اور بحران کے دور سے گزر رہا تھا۔ طالبان نے بڑے پیمانے پر پیش قدمی کرتے ہوئے 17 مرداد / 8 اگست کو مزار شریف شہر میں داخل ہوکر اس پر قبضہ کرلیا۔ اس شہر میں جمہوریہ اسلامی ایران کا قونصل خانہ اور جمہوریہ اسلامی ایران کی خبر رساں ایجنسی ایرنا (IRNA) کا دفتر بھی قائم تھا۔

اسی روز محمود صارمی، جو مزار شریف میں ایرنا کے نمائندہ اور دفتر کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، مسلسل خبریں ارسال کرنے میں مصروف تھے۔

وہ شہر میں رونما ہونے والے واقعات کی لمحہ بہ لمحہ اطلاعات تہران پہنچا رہے تھے تاکہ عوام افغانستان میں جاری حالات سے بے خبر نہ رہیں۔

کچھ ہی دیر بعد مسلح طالبان اہلکار ایرانی قونصل خانے میں داخل ہوگئے۔ شہید صارمی بھی خبروں کی پیروی اور دفتری امور میں رابطہ کاری کے لیے اسی مقام پر موجود تھے۔

اس حملے کے دوران محمود صارمی سمیت نو ایرانی شہری شہید ہوگئے، جن میں آٹھ سفارت کار شامل تھے۔ تاہم کئی روز تک ان کے بارے میں کوئی حتمی اطلاع سامنے نہ آسکی۔ شہداء کے اہل خانہ، ساتھی اور ایرانی حکام ان کے بارے میں خبر کے منتظر رہے جبکہ طالبان اس المناک واقعے میں اپنے ملوث ہونے سے انکار کرتے رہے۔

مسلسل پیروی اور کوششوں کے بعد شہداء کے پیکرِ مطہر قونصل خانے کے قریب سے برآمد ہوئے اور انہیں ایران منتقل کیا گیا۔ یوں اس المناک واقعے کے مختلف پہلو سامنے آئے۔

17 مرداد / 8 اگست کو ایران میں ’’یومِ صحافت‘‘ کیوں قرار دیا گیا؟

ایک صحافی کی شہادت، ایک ابدی علامت

محمود صارمی کی شہادت محض ایک صحافی سے محرومی نہیں تھی۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا جب پورا شہر ایک سنگین سکیورٹی بحران کی لپیٹ میں تھا لیکن انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا۔

یہی وصف ان کے نام کو صحافتی ذمہ داری، شجاعت اور حقیقت پسندی کی علامت بنانے کا سبب بنا۔

شہید صارمی نے ثابت کیا کہ ایک حقیقی صحافی کا مشن صرف خبر پہنچانا نہیں بلکہ مشکل ترین حالات میں بھی حقیقت کو عوام تک پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرنا ہے۔

17 مرداد / 8 اگست؛ ’’یومِ صحافت‘‘

شہید محمود صارمی کی شہادت کے ایک سال بعد عوامی ثقافتی کونسل ایران نے 17 مرداد / 8 اگست کو جمہوریہ اسلامی ایران کے سرکاری کیلنڈر میں ’’یومِ صحافت‘‘ کے طور پر درج کیا۔

یہ دن ان تمام صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے جو خطرات اور مشکلات کے باوجود عوام کو آگاہ کرنے اور حقائق کو معاشرے تک پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔

آج جب بھی ’’یومِ صحافت‘‘ کا نام لیا جاتا ہے، شہید محمود صارمی کی یاد بھی تازہ ہوجاتی ہے؛ وہ صحافی جن کا نام صرف ایران کی صحافتی تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کی اجتماعی یادداشت میں ذمہ داری، شجاعت اور حقیقت سے وفاداری کی علامت کے طور پر محفوظ ہے۔

شاید 17 مرداد / 8 اگست کی پائیدار اہمیت کا راز بھی یہی ہے کہ یہ محض ایک پیشہ ورانہ مناسبت نہیں، بلکہ ایسے صحافی کی یاد کا دن ہے جس نے اپنے آخری مشن کو ادھورا نہیں چھوڑا اور حقیقت کو عوام تک پہنچانے کی راہ میں شہداء کے قافلے میں شامل ہو گئے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha