حوزہ نیوز ایجنسی: امام قلی خان، صفوی دور کے نامور ایرانی سپہ سالار تھے، جنہوں نے غیرت اور شجاعت کے ساتھ پرتگالی تسلط کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ وہ ایسے مدبر اور بااقتدار کمانڈر تھے جنہوں نے اپنی حکمتِ عملی اور قوتِ فیصلہ کے ذریعے ہرمز کو پرتگالیوں کے قبضے سے آزاد کرایا اور خلیج فارس میں ایران کی تاریخ کا ایک اہم باب رقم کیا۔
ذیل میں صفوی دور کی تاریخ کے اہم ترین واقعات اور خلیج فارس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں میں امام قلی خان کی زندگی، مقام و مرتبے اور کردار کا مختصر جائزہ پیش کیا جا رہا ہے:
امام قلی خان صفوی دور کے نامور ترین سپہ سالاروں میں شمار ہوتے تھے اور شاہ عباس اول کے عہد کی مؤثر شخصیات میں سے ایک تھے۔ ان کا نام خصوصاً جنوبی ایران میں پرتگالیوں کے خلاف جدوجہد اور جزیرۂ ہرمز کی واپسی کے واقعے سے جڑا ہوا ہے۔
وہ اللہ وردی خان کے فرزند تھے؛ اللہ وردی خان بھی شاہ عباس کے دور میں صفوی حکومت میں ایک اہم مقام تک پہنچنے والے نامور سپہ سالار تھے۔ والد کے انتقال کے بعد امام قلی خان نے بھی بتدریج حکومت میں مزید اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔
امام قلی خان؛ حکومتِ فارس سے جنوبی ایران کی سپہ سالاری تک
شاہ عباس نے امام قلی خان کو حکومتِ فارس کی ذمہ داری سونپی اور بعد ازاں انہیں امیرالامرائیِ فارس اور سپہ سالاریِ ایران کے منصب پر بھی فائز کیا۔ یہ عہدے اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ شاہ عباس کو ان کی فوجی صلاحیتوں اور انتظامی قابلیت پر گہرا اعتماد تھا۔
امام قلی خان اپنے دورِ حکومت میں محض ایک فوجی کمانڈر نہیں تھے بلکہ فارس اور ایران کے جنوبی علاقوں کے انتظام و انصرام میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے۔ انہوں نے ان علاقوں کی ترقی اور آبادکاری کے لیے متعدد اقدامات کیے۔
اس زمانے میں صفوی حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں سے ایک جنوبی ایران سے پرتگالیوں کو نکال باہر کرنا تھا۔ پرتگالی سولہویں صدی عیسوی کے آغاز ہی سے خلیج فارس میں داخل ہو چکے تھے اور ہرمز، قشم اور بعض اہم بندرگاہوں پر قبضہ کرکے خطے کے تجارتی راستوں اور سمندری آمدورفت کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کر رہے تھے۔
پرتگالیوں کو نکال باہر کرنے کے لیے شاہ عباس کا منصوبہ
جزیرۂ ہرمز اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت کے باعث انتہائی اہمیت رکھتا تھا۔ پرتگالیوں نے اس جزیرے پر ایک مضبوط قلعہ تعمیر کر رکھا تھا اور اسے خلیج فارس میں اپنے اہم ترین فوجی اڈوں میں سے ایک کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
شاہ عباس جنوبی ایران سے پرتگالیوں کو نکال باہر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے۔ انہوں نے یہ اہم ذمہ داری امام قلی خان کے سپرد کی، جنہوں نے اس مقصد کے لیے مرحلہ وار ایک جامع منصوبہ تیار کیا۔
اس منصوبے کا پہلا مرحلہ جزیرۂ قشم پر قبضہ تھا، کیونکہ ہرمز میں موجود پرتگالی فوج کو درکار پینے کے صاف پانی کا ایک اہم حصہ قشم سے فراہم ہوتا تھا۔ چنانچہ قشم پر قبضہ کرکے ہرمز میں موجود پرتگالیوں پر دباؤ بڑھایا جا سکتا تھا۔
1031 ہجری، بمطابق 1622ء میں امام قلی خان کی قیادت میں ایرانی افواج نے اپنی کارروائی کا آغاز کیا اور قشم کو پرتگالیوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا۔
اس کارروائی میں انگریزی ایسٹ انڈیا کمپنی کی بحری افواج نے بھی ایرانی لشکر کا ساتھ دیا اور سمندر کی جانب سے ایرانی فوج کو مدد فراہم کی۔
فتحِ ہرمز؛ پرتگالیوں کی ایک صدی طویل موجودگی کا خاتمہ
قشم پر قبضے کے بعد اگلا مرحلہ ہرمز تھا؛ وہ جزیرہ جہاں پرتگالی ایک صدی سے زیادہ عرصے سے موجود تھے اور اسے ایک اہم فوجی اڈے میں تبدیل کر چکے تھے۔ امام قلی خان کی قیادت میں ایرانی افواج ہرمز کی جانب پیش قدمی کرتی ہوئی پہنچیں اور انگریزی بحری جہازوں کے تعاون سے پرتگالی قلعے کا محاصرہ کر لیا۔
خشکی سے ایرانی افواج کا دباؤ اور اتحادیوں کے بحری حملوں نے پرتگالیوں کی پوزیشن انتہائی مشکل بنا دی اور بالآخر قلعۂ ہرمز سقوط کر گیا۔
22 اپریل 1622ء کو پرتگالیوں کی ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط موجودگی کے بعد ہرمز ان کے کنٹرول سے نکل گیا اور خلیج فارس میں ان کا ایک اہم ترین فوجی اڈہ ان کے ہاتھ سے چلا گیا۔
یہ فتح صفوی حکومت کے لیے سیاسی اور معاشی اعتبار سے انتہائی اہم تھی، کیونکہ خلیج فارس کے ایک اہم ترین تزویراتی مقام کا کنٹرول دوبارہ ایران کے ہاتھ میں آ گیا اور خطے میں پرتگالی اثر و رسوخ کو شدید دھچکا پہنچا۔
اس کامیابی میں امام قلی خان کا کردار صرف میدانِ جنگ کی قیادت تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے علاقے کی جغرافیائی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے پرتگالیوں تک پانی اور رسد کی رسائی کے راستوں پر دباؤ ڈالا اور پھر ہرمز کے محاصرے کی مرکزی کارروائی کو آگے بڑھایا۔
اسی وجہ سے فتحِ ہرمز کو شاہ عباس کے دور کی اہم ترین فوجی کامیابیوں میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ امام قلی خان اس فتح کے بنیادی کرداروں میں شمار ہوتے ہیں۔
اس کامیابی کے بعد صفوی حکومت میں امام قلی خان کا مقام مزید مستحکم ہوا اور وہ اپنے عہد کے طاقتور ترین حکمرانوں اور سپہ سالاروں میں شمار ہونے لگے۔
تاہم ان کی زندگی صرف جنگ اور سیاست تک محدود نہیں تھی۔ فارس اور ان کے زیرِ حکومت علاقوں میں انہوں نے متعدد تعمیراتی منصوبے بھی مکمل کروائے۔ ان میں مرودشت کے قریب پلِ خان بھی قابلِ ذکر ہے۔
آخرکار شاہ عباس کے انتقال اور شاہ صفی کے تخت نشین ہونے کے بعد امام قلی خان کے حالات بدل گئے۔ جو شخص کبھی صفوی سلطنت کے طاقتور ترین سپہ سالاروں میں شمار ہوتا تھا، اسے شاہ صفی کے حکم پر قزوین میں قتل کر دیا گیا۔
اس کے باوجود تاریخِ ایران میں امام قلی خان کا نام صفوی دور کے ممتاز سپہ سالاروں میں ہمیشہ زندہ رہا۔ وہ ایسے کمانڈر کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جس نے خلیج فارس کی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر ہرمز کی بازیابی کی فوجی کارروائی کی قیادت کی اور پرتگالیوں کو شکست دے کر خلیج فارس میں ان کی موجودگی کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا۔









آپ کا تبصرہ