حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ٹیکساس میں ریپبلکن قانون سازوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف سخت پابندیوں پر مشتمل ایک سو نکاتی منصوبہ قانون سازی کے لیے پیش کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے تحت ریاست میں مقیم لاکھوں مسلمانوں کی مذہبی آزادی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریپبلکن نمائندوں کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ قوانین میں سرکاری اسکولوں میں حجاب پر پابندی، حلال کھانے کی فروخت روکنے، نمازِ جماعت پر پابندی اور تعلیمی نصاب میں اسلام اور شریعت کو مبینہ طور پر ’’تشدد پسند اور غلبہ پسند‘‘ مذہبی نظام کے طور پر پیش کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ٹیکساس کے ریپبلکن ارکان نے ان قوانین کا ابتدائی مسودہ قانون سازی کے ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مجوزہ اقدامات مسلمانوں کے لیے اپنی مذہبی رسومات اور فرائض کی ادائیگی کو انتہائی مشکل بنا سکتے ہیں۔
یہ منصوبہ ریپبلکن حلقوں کی اس وسیع تر سیاسی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں ’’ٹیکساس کی اسلامائزیشن‘‘ کو روکنے کا نعرہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس بیانیے میں ریاست میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو ایک سیاسی مسئلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حامی حلقوں نے اس منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی اور آزادیِ اظہار پر حملہ قرار دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق، ایسی قانون سازی نہ صرف مسلمانوں بلکہ دیگر غیر مسیحی مذہبی اقلیتوں کے لیے بھی امتیازی سلوک، ہراسانی اور ممکنہ تشدد کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ