پیر 20 جولائی 2026 - 16:35
ٹیکساس کے مسلمان انتخابی مہم میں اسلام مخالف بیانات سے خوف و ہراس کا شکار

حوزہ/ امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں مسلمان برادری نے انتخابی مہم کے دوران بعض امیدواروں کی جانب سے اسلام مخالف بیانات اور نفرت انگیز مہم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے باعث مسلمانوں کے خلاف تعصب اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں مسلمان برادری نے انتخابی مہم کے دوران بعض امیدواروں کی جانب سے اسلام مخالف بیانات اور نفرت انگیز مہم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے باعث مسلمانوں کے خلاف تعصب اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ٹیکساس کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ بعض انتخابی امیدوار اپنی تقاریر میں اسلام کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کرتے ہیں، جس کے اثرات روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ ان کے بقول، اسکولوں، یونیورسٹیوں، بازاروں، پارکوں اور دیگر عوامی مقامات پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی رویے اور اسلام مخالف گفتگو میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اسی سلسلے میں ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہیوسٹن یونیورسٹی میں چند مسلمان طلبہ نماز ادا کر رہے تھے کہ ایک شخص وہاں پہنچا اور ان کے سامنے قرآن مجید کو نذرِ آتش کر دیا۔ اس کے علاوہ متعدد ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن میں مسلمانوں کو روایتی اسلامی لباس پہننے کی وجہ سے زبانی حملوں اور توہین آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑا۔

متاثرہ افراد نے مختلف انٹرویوز میں بتایا کہ بڑھتی ہوئی نفرت کی فضا کے باعث وہ گھروں سے نکلتے وقت عدم تحفظ محسوس کرتے ہیں۔ بعض مسلمانوں نے آن لائن دھمکیوں اور ہراسانی سے بچنے کے لیے انتخابات تک عارضی طور پر غیر اسلامی نام استعمال کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حال ہی میں ٹیکساس کی ریپبلکن پارٹی کے سرکاری کنونشن میں شریک مسلمان اراکین، جن میں بعض منتخب نمائندے بھی شامل تھے، کو شدید ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا اور بعض افراد نے انہیں عیسائیت قبول کرنے یا ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔

ٹیکساس کے مسلمانوں نے ریاستی نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی حالیہ سیاسی پالیسیوں اور انتخابی بیانات پر نظرثانی کریں اور اسلام مخالف نفرت انگیز مہمات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں، کیونکہ ان کے بقول اس طرح کی مہمات معاشرے میں مذہبی منافرت کو فروغ دے رہی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha