جمعرات 19 فروری 2026 - 20:05
کینیڈا میں اسلاموفوبیا کے خلاف قائم دفتر بند

حوزہ/ کینیڈا میں اسلاموفوبیا کے خلاف قائم خصوصی دفتر بند کر دیا گیا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملک میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور نفرت انگیز واقعات کی نگرانی اور ان کے تدارک کی کوششیں کمزور پڑ جائیں گی۔ یہ دفتر خصوصی نمائندہ امیرا الغوابی کی سربراہی میں کام کر رہا تھا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کینیڈا میں اسلاموفوبیا کے خلاف قائم خصوصی دفتر کو بند کرنے کے فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملک میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور نفرت انگیز واقعات کی نگرانی اور اس کے خلاف کاروائی کی کوششیں کمزور پڑ جائیں گی۔ یہ دفتر خصوصی نمائندہ امیرا الغوابی کی سربراہی میں کام کر رہا تھا۔

یہ دفتر انسدادِ اسلاموفوبیا کے لئے کینیڈا کی خصوصی نمائندہ امیرا الغوابی کی سربراہی میں کام کر رہا تھا۔ وہ مسلمانوں کو درپیش معاشی رکاوٹوں پر تحقیق، سرکاری اداروں کو مشاورت، اسلاموفوبیا کے خلاف تعلیمی پروگراموں کی تیاری اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کی میڈیا کوریج پر مطالعات کی سرپرستی میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔

حالیہ جائزوں کے مطابق صوبہ Quebec میں تقریباً تین چوتھائی مسلمان خواتین امتیازی سلوک اور ہراسانی کے باعث صوبہ چھوڑنے پر غور کر رہی ہیں، جبکہ بعض کینیڈین سیاست دان اب بھی اس خطے میں اسلاموفوبیا کے وجود سے انکار کرتے ہیں۔

دفتر کی بندش کا فیصلہ وزیر اعظم Mark Carney کی جانب سے کیا گیا، جس پر مزید تنقید سامنے آئی، خصوصاً اس پس منظر میں کہ کنزرویٹو رہنما Pierre Poilievre اس عہدے کو پہلے ہی “بے فائدہ” قرار دے چکے تھے۔

مرکز کی بحالی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا کے مؤثر مقابلے کے لیے مالی وسائل اور سیاسی عزم میں اضافہ ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اس دفتر کے بغیر مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور تشدد ایک بڑا خطرہ بن کر رہ جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha