پیر 10 اگست 2026 - 19:26
حوزہ نیوز کو حوزوی ماہرین و ممتازین، طلبہ اور اساتذہ کی آواز بننا چاہیے

حوزہ / مدیر حوزہ علمیہ نے صحافیوں اور جہادِ تبیین کے سپاہیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معرکے میں ’’پیشہ ورانہ اخلاق‘‘ اور ’’بصیرت افروز تجزیے‘‘ کے دو ہتھیاروں سے لیس ہو کر واقعات وواخبارات کے اولین اور حقیقی راوی بنیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیر حوزہ علمیہ آیت اللہ اعرافی کا یومِ صحافت کے موقع پر جاری کردہ پیغام درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

17 مرداد / 8 اگست، ان قلم کاروں کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے حقیقت پسندی کی راہ میں «ن وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُونَ» کی پیروی کی اور جو اپنے ذمہ دارانہ قلم، دوراندیش نگاہ اور انتھک جدوجہد کے ساتھ حقیقت کو بیان کرتے ہیں اور معاشرے کی آگاہی و روشنگری کی راہ میں ایک لمحے کے لیے بھی اپنی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹتے۔

اس سال یومِ صحافت ایسے وقت میں آیا ہے جب عالم اسلام عظیم الشان رہبر حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای، مقاومتی محاذ کے عظیم مجاہدین اور عزت و سربلندی کی راہ میں شہید ہونے والے شہداء کی شہادت پر سوگوار ہے لیکن ان شہادتوں نے نہ صرف اس راستے میں کوئی خلل پیدا نہیں کیا بلکہ امت مسلمہ کی رگوں میں تازہ خون دوڑا دیا ہے اور نظامِ استکبار کے جرائم سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

عزیز صحافیوں؛ جہادِ تبیین کے سپاہیوں کے نام:

آج دشمن کی نرم جنگ صرف ایک میڈیا جنگ نہیں بلکہ ارادوں پر قبضہ کرنے اور عقائد و نظریات تبدیل کرنے کی جنگ ہے۔ میں آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس معرکے میں ’’پیشہ ورانہ اخلاق‘‘ اور ’’بصیرت افروز تجزیے‘‘ کے دو ہتھیاروں سے لیس ہو کر واقعات کے اولین راوی بنیں۔

اس میدان میں ہماری بنیادی حکمتِ عملی ’’حقیقت پر مبنی امید آفرینی‘‘ اور ’’اصلاح کے لیے خیرخواہانہ تنقید‘‘ ہونی چاہیے۔ آپ کا قلم سرچ لائٹ کی مانند دشمن کی نفسیاتی کارروائیوں کے اندھیروں کو چیر دے اور حق کے مظلوم مگر مقتدر محاذ کی مظلومیت کی حقیقت کو آزاد، آزادی پسند انسانوں اور پوری دنیا کے عوام تک پہنچائے۔

حوزہ علمیہ کو آج پہلے سے کہیں زیادہ حقیقت کے متلاشی دنیا کے ساتھ ’’ذہین رابطہ پلوں‘‘ کی ضرورت ہے۔ آپ صحافی، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت علیہم السلام کی معارف اور حوزہ علمیہ کے گراں قدر علمی ورثے کی تبیین کے سفیر ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی اور حوزوی میڈیا سے توقع ہے کہ وہ ملک کے دیگر ذرائع ابلاغ کے ساتھ مل کر جدید میڈیا ذرائع اور بین الاقوامی زبان سے استفادہ کرتے ہوئے ’’تمدن ساز حوزہ‘‘ اور ’’پیشرو و ممتاز حوزہ‘‘ کو اس کی تمام علمی، اخلاقی اور سماجی صلاحیتوں کے ساتھ معاشرے کے افکارِ عامہ اور عالمی حلقوں سے متعارف کرائیں۔

حوزہ علمیہ تبدیلی کے دور میں خود کو حجرات تک محدود ایک ادارہ نہیں بلکہ عصر حاضر کے انسان کو درپیش فکری اور اخلاقی چیلنجز کا جواب دینے والے پیش رو کے طور پر دیکھتا ہے۔ حوزہ نیوز کو حوزوی ماہرین، طلبہ اور اساتذہ کی آواز بننا چاہیے جو معاشرے کے سماجی، سیاسی اور خاندانی بحرانوں کے لیے اسلام عزیز اور مکتب اہل بیت علیہم السلام سے ماخوذ حل پیش کرتے ہیں۔

حوزوی میڈیا کو معاشرے میں حوزہ کی مسلسل موجودگی کی درست عکاسی کرنی چاہیے تاکہ سب لوگ جان سکیں کہ حوزاتِ علمیہ عوام کی اساس و بنیاد سے وابستہ ہیں اور ان کے دکھ درد اور مسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

آپ کا قلم ایسا ذریعہ ہونا چاہیے جس کے ذریعے معاشرے کے سامنے تمام سماجی، سیاسی اور خاندانی شعبوں میں عزیز طلبہ کی ’’دلسوزانہ موجودگی‘‘ اور ’’جہادی خدمات‘‘، مختلف تحولی منصوبے اور حوزہ کی وسیع سرگرمیاں نمایاں ہوں اور حوزہ سے وابستہ تمام اداروں کی سرگرمیوں کی کوریج کی جائے۔

اسی طرح اہل بیت علیہم السلام کی معارف اور عوام کی عملی زندگی کے درمیان ناقابلِ انقطاع تعلق نمایاں ہوگا اور سب محسوس کریں گے کہ حوزہ ایک ایسا ادارہ ہے جو عوام کے مسائل حل کرنے اور دین کا پرچم بلند کرنے کے لیے پوری قوت کے ساتھ عملی میدان میں موجود ہے۔

صحافی شہداء کی یاد اور ان کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تمام اصحابِ میڈیا، ملک اور حوزہ میں بالخصوص حوزہ نیوز ایجنسی سے وابستہ صحافتی شعبے کے تمام فعال افراد کو یومِ صحافت کی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور روشنگری اور کلمۂ حق کی سربلندی کی راہ میں آپ کی روز افزوں کامیابیوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں۔

علی رضا اعرافی

مدیر حوزہ علمیہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha