منگل 11 اگست 2026 - 12:43
معرفت اور الٰہی تعلیمات پر عمل روحانی ترقی کا ذریعہ ہے: حجۃ الاسلام والمسلمین انصاریان

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے کہا ہے کہ انسان صرف جسم اور مادی وجود کا نام نہیں بلکہ اس کا ایک روحانی وجود بھی ہے، جس کی نشوونما معرفت اور الٰہی تعلیمات پر عمل کے ذریعے ہوتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے کہا ہے کہ انسان صرف جسم اور مادی وجود کا نام نہیں بلکہ اس کا ایک روحانی وجود بھی ہے، جس کی نشوونما معرفت اور الٰہی تعلیمات پر عمل کے ذریعے ہوتی ہے۔

تہران میں ماہِ صفر کے تیسرے عشرے کی مجالس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام کی روایات کی روشنی میں انسان کے مادی و روحانی وجود کی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ انسان کا مادی وجود مٹی سے وجود میں آیا اور پیدائش کے بعد بھی اس کی زندگی خوراک اور دیگر مادی ضروریات سے وابستہ رہتی ہے، لیکن اگر انسان صرف اپنے مادی وجود تک محدود رہے اور اپنی روحانی حقیقت کو نظر انداز کرے تو قرآن کی نظر میں اس کا مقام جانوروں جیسا ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ اپنی عقل، آنکھ اور کان کو حقائق کے ادراک کے لیے استعمال نہیں کرتا۔

حجۃ الاسلام والمسلمین انصاریان نے کہا کہ انبیائے الٰہی کی بعثت اور آسمانی کتابوں کا نزول اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کا وجود مادی جسم سے بالاتر ایک روحانی حقیقت رکھتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ خدا، قیامت، حلال و حرام اور اخلاقی و عملی احکام کی معرفت حاصل کرے اور پھر ان پر عمل کرے۔

انہوں نے ایمان، معرفت، عمل اور صبر کو روحانی ترقی کے اہم مراحل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسان گناہ اور شیطانی وسوسوں کے باوجود اپنے ایمان کی حفاظت کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اطاعت اور عمل کرنے والوں کے لیے رحمت، مغفرت، اپنی رضا اور جنت کا وعدہ کیا ہے، اس لیے انسان کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے روحانی تربیت میں والدین اور اساتذہ کے کردار کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض اساتذہ صرف تعلیم نہیں دیتے بلکہ طلبہ کی دینی اور اخلاقی تربیت بھی کرتے ہیں اور ان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین انصاریان نے مزید کہا کہ مؤمن انسان مشکلات میں خدا کو اپنا سہارا بناتا ہے، نماز، دعا، توسل اور زیارت کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرتا ہے اور اسی وجہ سے اسے قلبی اطمینان حاصل ہوتا ہے؛ جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: «أَلَا بِذِکْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ»۔

انہوں نے سرقت کو صرف کسی شخص کا موبائل یا گھر کا سامان چوری کرنے تک محدود نہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی قوم، یتیم یا کمزور انسان کے مال پر ناجائز قبضہ کرنا بھی چوری ہے۔ دنیا میں بعض اوقات قوموں کے وسائل پر بھی قبضہ کیا جاتا ہے اور ایسے مظالم کا بھی قیامت میں حساب ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha