حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے حوزات علمیہ کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے رومانیہ کے مفتی اعظم اور مسلمانوں کے مذہبی رہنما شیخ یوسف مراد کے نام اپنے خط میں اسلامی اتحاد، باہمی ہم آہنگی اور تفرقے سے پرہیز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ خط حوزات علمیہ کے دفتر ادیان و مذاہب کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین محمد صادق امین دین نے رومانیہ کے شہر کانستانتا کے دورے کے دوران مفتی اعظم کو پیش کیا۔ آیت اللہ اعرافی نے اپنے خط میں قرآن کریم کی آیات اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں امت مسلمہ کے اتحاد کو ایک اہم اور بنیادی ضرورت قرار دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی مذاہب کے درمیان قربت کا مطلب فقہی اور اعتقادی اختلافات کو نظر انداز کرنا نہیں، بلکہ مشترکہ اصولوں پر توجہ دیتے ہوئے عالم اسلام کو درپیش بڑے مسائل، بالخصوص ثقافتی یلغار، خاندانی نظام کی کمزوری اور انتہا پسندی کے مقابلے میں مشترکہ تعاون کرنا ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے اسلامی مذاہب کے درمیان قربت اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ میں مفتی اعظم رومانیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایران کے حوزات علمیہ کی جانب سے رومانیہ کی مسلم برادری کے ساتھ وسیع علمی و ثقافتی تعاون کے لیے آمادگی کا اعلان کیا۔
انہوں نے تعلیمی و تحقیقی، ثقافتی و سماجی اور روحانی و اخلاقی شعبوں میں تعاون کی تجویز پیش کی، جس میں فقہِ تقابلی، اسلامی عقائد اور تاریخ اسلام کے موضوعات پر اساتذہ و محققین کا تبادلہ، اسلامی اتحاد اور نوجوانوں و دینی شناخت کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقاد اور مشترکہ عرفانی و اخلاقی میراث پر توجہ شامل ہے۔
خط میں قرآن کریم اور تقابلی تفسیر کے مطالعات کو تمام مسلمانوں کے درمیان مشترکہ علمی میدان قرار دیتے ہوئے اس کی ترویج پر بھی زور دیا گیا۔
آیت اللہ اعرافی نے اہل سنت کے مقدسات کی توہین کی حرمت سے متعلق شیعہ مراجع کے فتاویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمانوں کے مقدسات کی توہین اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے سے پرہیز اور تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے ایران کے حوزات علمیہ اور رومانیہ کی مسلم برادری کے درمیان تعاون کو انتہا پسندی اور بدعت کے مقابلے اور اسلام کی حقیقی تعلیمات کے تحفظ کی جانب مؤثر قدم قرار دیا۔









آپ کا تبصرہ