حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ مرکزی میں نمائندہ ولی فقیہ آیت اللہ قربان علی دری نجف آبادی نے اپنے درسِ تفسیر میں 8 ربیع الاول، امامت کے گیارہویں درخشاں ستارے امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت اور حضرت ولی عصر امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی امامت کے آغاز کی مناسبت سے ان ایام کو امام زمانہ اور تمام محبانِ اہل بیت علیہم السلام کی خدمت میں تعزیت و تبریک پیش کی۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے آغاز میں ان ایام کی شہید رہبر کی تدفین کے چالیسویں روز کے ساتھ تقارن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام شہید کے خاندان کے شہداء، غزہ و لبنان کے حالیہ شہداء اور صوبہ مرکزی کے شہداء کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔
آیت اللہ دری نجف آبادی نے دورِ غیبت صغریٰ میں امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے خاص نائبین کے حساس مقام پر زور دیتے ہوئے ان کے دشوار حالات کو یاد کیا اور کہا: نائبِ خاص کی شخصیت میں اس قدر استحکام ہونا چاہیے کہ وہ سخت ترین اذیتوں اور شکنجوں کے باوجود بھی اپنا راز فاش نہ کرے۔ عباسی جابر حکومت نے متعدد مرتبہ ان نائبین کی شناخت کی کوشش کی لیکن ان میں سے بعض کو گرفتار اور اذیتیں دینے کے باوجود، جیسا کہ دوسرے نائب کے ساتھ ہوا، وہ لوگ امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے ان کے رابطے کو فاش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
انہوں نے کہا: وکالت کا نظام اور نائبینِ خاص کا نظام دورِ غیبت میں شیعہ معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی اس حکیمانہ تدبیر نے شیعوں کو حیرت و سرگردانی سے نجات دلائی اور امامِ غائب سے رابطے کا راستہ ہموار کیا۔
آیت اللہ دری نجف آبادی نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے ائمہ اطہار علیہم السلام، بالخصوص امام جواد علیہ السلام، امام ہادی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی اور دورِ امامت کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا۔ انہوں نے امام جواد علیہ السلام کی کم عمری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام جواد علیہ السلام نے تقریباً آٹھ سال کی عمر میں اپنے والد گرامی کو کھو دیا اور 25 سال کی عمر میں معتصم عباسی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
انہوں نے امام جواد علیہ السلام کی خدمت میں اس دور کی علمی شخصیات کے علمی جلسوں اور سوالات کو یاد کرتے ہوئے ایک علمی نشست کا حوالہ دیا اور کہا: اس مجلس میں امام جواد علیہ السلام سے مختلف مسائل کے بارے میں سوالات کیے گئے اور آپ علیہ السلام نے تمام سوالات کے جوابات عنایت فرمائے۔









آپ کا تبصرہ