حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نمازِ مغرب ایک اہلِ سنت عالمِ دین کی امامت میں ادا کی گئی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، دینی شخصیات اور شرکاء نے شرکت کی جبکہ نمازِ عشاء ایک شیعہ عالمِ دین کی اقتدا میں ادا کی گئی۔
اس موقع پر تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی صف میں شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے۔ بعض نمازیوں نے ہاتھ باندھ کر جبکہ بعض نے ہاتھ کھول کر نماز ادا کی، تاہم سب کا رخ ایک ہی قبلہ کی جانب تھا اور دل عشق و محبتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سرشار تھے۔

یہ روح پرور منظر اس حقیقت کا عملی مظہر تھا کہ فقہی اور فروعی اختلافات اپنی جگہ موجود ہونے کے باوجود امتِ مسلمہ کے درمیان مشترکات کہیں زیادہ ہیں۔ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کا ایک دوسرے کی اقتدا میں نماز ادا کرنا اتحاد، رواداری، باہمی احترام اور بین المسالک ہم آہنگی کا مؤثر پیغام ہے۔
علماء کی جانب سے اس خوبصورت اقدام کو پاکستان میں اتحادِ امت کے فروغ کے حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایسے عملی مظاہرے نہ صرف مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان فاصلے کم کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے خاتمے اور محبت و اخوت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس موقع پر اس امر کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا کہ اگر ملک سے فرقہ واریت، انتہاپسندی اور نفرت کا خاتمہ کرنا ہے تو باہمی احترام، اتحاد اور وحدت کو فروغ دینا ہوگا۔ مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور عوام کو ایک دوسرے کے اجتماعات میں شرکت، باہمی میل جول اور مشترکہ دینی و ملی پروگراموں کے انعقاد کو فروغ دینا چاہیے۔ یہی عملی اقدامات دلوں کو قریب لانے، غلط فہمیوں کو دور کرنے اور معاشرے میں اسلامی اخوت و محبت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اتحادِ امت ہی پاکستان میں امن، استحکام اور باہمی رواداری کے فروغ کی بنیاد بن سکتا ہے۔
موجودہ حالات میں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء اور عوام اپنے مشترکہ اسلامی و ملی مفادات کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھیں، کیونکہ اتحاد و وحدت میں ہی امتِ مسلمہ کی قوت، ملک و قوم کا استحکام اور رضائے خداوندی و خوشنودی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام مضمر ہے۔









آپ کا تبصرہ