حوزہ نیوز ایجنسی | ہر سال لاکھوں پاکستانی حج، عمرہ اور زیارات کے لیے بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں۔ یہ لوگ جہاں بھی جاتے ہیں، وہاں صرف اپنی ذات کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ غیر شعوری طور پر پاکستان کے چہرے اور پاکستان کے غیر رسمی سفیر بھی ہوتے ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
محترم جناب! یہ خط کسی رسمی درخواست، ذاتی مفاد یا کسی منصب کے حصول کے لیے نہیں، بلکہ ایک پاکستانی کی حیثیت سے اپنے وطن، اپنے ہم وطنوں اور پاکستان کے وقار کے بارے میں ایک مخلصانہ احساس کے تحت آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں داخلی و خارجی سطح پر جس عزم، استقامت اور خوداعتمادی کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے پوری قوم کے اندر ایک نیا حوصلہ پیدا کیا ہے۔ ایسے وقت میں یہ بھی ضروری محسوس ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی شہریوں خصوصاً مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جانے والے لاکھوں پاکستانیوں کے مسائل کو بھی قومی ترجیحات اور سفارتی حکمتِ عملی کے دائرے میں سنجیدگی سے دیکھا جائے۔
عراق: ہمارے لیے محض ایک ملک نہیں
جناب والا! عراق ہمارے لیے صرف ایک ملک نہیں بلکہ نجف اشرف، کربلائے معلیٰ، کاظمین، سامرہ اور دیگر مقدس مقامات کی سرزمین ہے۔
خصوصاً حضرت امام حسین علیہ السلام کی بارگاہِ اقدس وہ مرکز ہے جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات وابستہ ہیں۔ امام حسین علیہ السلام رسول اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نواسے ہیں لہٰذا ان کی زیارت اور ان سے وابستہ عقیدت کو محض کسی ایک مکتبِ فکر کا معاملہ سمجھنا مناسب نہیں۔ یہ ہمارے اسلامی، روحانی اور تاریخی ورثے سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
جناب! آپ بحیثیتِ ساداتِ کرام، مولا امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی اولاد سے نسبت رکھتے ہیں۔ نجف اشرف، کربلائے معلیٰ اور عراق کے یہ مقدس مراکز آپ کے بزرگوں، آپ کے اجداد اور اہلِ بیت علیہم السلام کے مقدس آثار و مراقد سے وابستہ مراکز ہیں۔
دنیا کے مختلف حصوں سے لوگ آج بھی ان مراکز کی طرف سفر کرتے ہیں تاکہ اپنے دل کی روحانی تشنگی بجھائیں، اپنی دینی پیاس کو سیراب کریں، اپنے ایمان کو تازگی دیں اور ان مقدس ہستیوں کی بارگاہوں سے روحانی تسکین حاصل کریں۔ اسی لیے میری مخلصانہ گزارش ہے کہ ان مراکز سے وابستہ پاکستانی زائرین کے مسائل کو ایک خصوصی انسانی، دینی، سفارتی اور قومی زاویے سے بھی دیکھا جائے۔
پچاس سال کی شرط — ایک قابلِ غور معاملہ
محترم جناب! عراقی حکام کی جانب سے پاکستانی مرد زائرین کے لیے 50 سال کی عمر کی شرط اور اس سے متعلق ویزا پابندیاں ہمارے عام پاکستانی زائرین کے لیے ایک بڑی مشکل بن چکی ہیں۔
میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اس پابندی کا بنیادی مقصد ویزے کے غلط استعمال، غیر قانونی قیام یا لوگوں کے مقررہ مدت سے زیادہ عراق میں رکنے کی روک تھام ہے تو اس مقصد کے حصول کے لیے ایسے انتظامی اور سفارتی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں جن سے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو روکا جائے مگر قانون پسند اور حقیقی زائرین کے لیے دروازے بند نہ ہوں۔ کیونکہ اگر کوئی شخص غیر قانونی طور پر رکنے کا ارادہ رکھتا ہو تو صرف عمر کی شرط اس مسئلے کا مکمل حل نہیں بنتی۔ دوسری طرف وہ عام پاکستانی جو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی میں سے کچھ رقم بچا کر، انتہائی سادہ انداز میں مقدس مقامات کی زیارت کی خواہش لے کر جاتا ہے، وہ اس پابندی کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
میری مؤدبانہ درخواست ہے کہ پاکستان کی حکومتی اور سفارتی سطح پر عراقی حکومت کے ساتھ اس 50 سالہ شرط پر باقاعدہ مذاکرات کیے جائیں اور اسے ختم کرانے یا کم از کم اس میں ایسی قابلِ عمل نرمی پیدا کرانے کی کوشش کی جائے جس سے حقیقی اور قانون پسند پاکستانی زائرین کے لیے آسانی پیدا ہو۔ اگر خدشہ غیر قانونی قیام کا ہے تو عمر کی بنیاد پر اجتماعی پابندی کے بجائے باقاعدہ گروپ رجسٹریشن، تصدیق شدہ ویزا نظام، زائرین کی سفری معلومات، مقررہ مدت میں واپسی کی ضمانت، پاکستانی و عراقی اداروں کے درمیان رابطہ اور ذمہ دار ٹور آپریٹرز کے ذریعہ منظم سفر جیسے اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں۔
پاکستان کے وقار سے وابستہ ایک تشویش
جناب والا! ہم نے خود ایسے حالات کے بارے میں سنا اور دیکھا ہے جہاں پاکستانی زائرین کو ایئرپورٹس پر اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتیٰ کہ پاسپورٹ روک لیے جانے یا جمع کر لیے جانے کی شکایات بھی سامنے آتی ہیں۔ اگر کسی پاکستانی شہری کو، جو اپنے ملک سے باقاعدہ ویزا لے کر ایک مقدس مقام کی زیارت کے لیے گیا ہو، اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑے تو یہ صرف ایک فرد کی پریشانی نہیں رہتی بلکہ اس کا اثر پاکستانی شہری کی عزتِ نفس اور پاکستان کے قومی وقار پر بھی پڑتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی شہری دنیا میں جہاں بھی جائے، اس کے ہاتھ میں موجود پاکستانی پاسپورٹ اس کے لیے عزت، اعتماد اور تحفظ کی علامت ہو۔
بائی روڈ زیارات — عام پاکستانی کے لیے ایک راستہ
اسی سلسلے میں بائی روڈ زیارات کا مسئلہ بھی نہایت اہم ہے۔ ایک طویل عرصے تک پاکستانی زائرین زمینی راستے سے ایران کے ذریعے عراق کی مقدس سرزمین تک پہنچتے رہے۔ یہ راستہ خصوصاً متوسط اور عام طبقے کے خاندانوں کے لیے زیارت کا نسبتاً قابلِ استطاعت ذریعہ تھا۔
یہ صرف سفر کا ایک طریقہ نہیں تھا؛ اس کے ذریعے وہ لوگ بھی نجف، کربلا، کاظمین اور سامرہ جیسے مقدس مقامات تک پہنچ پاتے تھے جن کے لیے مہنگا فضائی سفر ممکن نہیں تھا۔لہٰذا میری درخواست ہے کہ بائی روڈ زیارات کے محفوظ، منظم اور قانونی امکانات کو بھی حکومتی سطح پر دوبارہ زیرِ غور لایا جائے اور اگر سیکیورٹی، ویزا یا امیگریشن کے مسائل ہیں تو متعلقہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ان کا حل تلاش کیا جائے۔
پاکستانی زائرین — پاکستان کا چہرہ
جناب والا! ہر سال لاکھوں پاکستانی حج، عمرہ اور زیارات کے لیے بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں۔ یہ لوگ جہاں بھی جاتے ہیں، وہاں صرف اپنی ذات کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ غیر شعوری طور پر پاکستان کے چہرے اور پاکستان کے غیر رسمی سفیر بھی ہوتے ہیں۔ اگر ہمارے زائرین کو مناسب رہنمائی، تربیت، نظم و ضبط، سفری سہولیات اور ریاستی سرپرستی حاصل ہو تو وہ دنیا کے سامنے پاکستان کے بہترین سفیر ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایک بااخلاق، منظم اور قانون پسند پاکستانی زائر جب عراق یا کسی دوسرے ملک میں جاتا ہے تو اس کے حسنِ سلوک سے پاکستان کا وقار بلند ہوتا ہے۔
اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ زائرین کی بہتر خدمت دراصل پاکستان کے وقار میں سرمایہ کاری ہے۔
آپ کی حیثیت سے ایک خصوصی امید
محترم حافظ سید عاصم منیر صاحب! آپ اس وقت پاکستان کی ایک ایسی قومی ذمہ داری پر فائز ہیں جہاں عالمی سطح پر سفارت کاری، قومی مفادات، ریاستی تعلقات اور حساس معاملات کو سمجھنے اور آگے بڑھانے کا تجربہ اور اثر موجود ہے۔ اسی لیے میں نے یہ گزارش آپ تک پہنچانا ضروری سمجھی۔
میرا یقین ہے کہ اگر آپ اس معاملے کو اپنی توجہ کا ایک حصہ عطا فرما دیں تو پاکستانی زائرین کے ان مسائل کو عراقی حکام اور متعلقہ پاکستانی ریاستی و سفارتی اداروں کے ساتھ مؤثر انداز میں اٹھایا جا سکتا ہے۔
یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں جس کا حل ناممکن ہو۔ اگر نیت، حکمتِ عملی، سفارتی رابطہ اور ریاستی سرپرستی شامل ہو تو 50 سال کی شرط پر نظرِ ثانی، زائرین کے ساتھ ایئرپورٹ کے معاملات، پاسپورٹ سے متعلق شکایات، ویزا پالیسی اور بائی روڈ زیارات جیسے مسائل پر باقاعدہ پیش رفت ممکن ہے۔
میری ذاتی رضاکارانہ پیشکش
محترم جناب! میں گزشتہ تقریباً چودہ سال سے عراق میں مقیم ہوں اور اس عرصے میں پاکستانی زائرین کے حالات، ضروریات، مشکلات اور زمینی حقائق کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ میں کسی عہدے، مراعات یا ذاتی فائدے کا طالب نہیں۔ اگر ریاستِ پاکستان اس معاملے کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہے تو میں اپنی عراق میں طویل موجودگی، مقامی حالات سے واقفیت اور زائرین کے ساتھ عملی وابستگی کو رضاکارانہ طور پر پاکستان کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں متعلقہ اداروں کو زمینی حقائق، زائرین کے مسائل، قابلِ عمل تجاویز اور مقامی سطح پر ممکنہ تعاون کے حوالے سے اپنی بساط کے مطابق مکمل معاونت فراہم کر سکتا ہوں۔
ایک آخری گزارش
محترم حافظ سید عاصم منیر صاحب! آخر میں ایک بات نہایت ذاتی اور مخلصانہ انداز میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔
آج اللہ تعالیٰ نے آپ کو پاکستان کی خدمت کے لیے ایک ایسا منصب، ایک ایسا مقام اور ایک ایسا منبر عطا فرمایا ہے جہاں سے آپ کی آواز نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتی ہے۔ زندگی میں بعض مواقع ایسے آتے ہیں جب انسان کے پاس کسی بڑے کام کے لیے وسائل، اختیار اور موقع تینوں موجود ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع ہمیشہ نہیں آتے۔
میری گزارش ہے کہ اس موقع کو پاکستانی زائرین کے لیے ایک یادگار خدمت میں تبدیل کر کے جائیں۔ اگر آپ کی کوشش سے کسی ایسے پاکستانی زائر کے لیے زیارت کا راستہ آسان ہو جائے جو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی جمع کرکے نجف و کربلا کی حاضری کا خواب دیکھ رہا ہے، اگر کسی خاندان کی پریشانی دور ہو جائے، اگر کسی نوجوان کے لیے ویزے کی مشکل حل ہو جائے، اگر کسی پاکستانی شہری کے ساتھ ایئرپورٹ پر عزت و احترام کا معاملہ یقینی ہو جائے، یا اگر بائی روڈ زیارات کے لیے کوئی محفوظ اور باقاعدہ راستہ دوبارہ پیدا ہو جائے تو یہ بظاہر ایک انتظامی کامیابی ہوگی، لیکن حقیقت میں یہ ہزاروں دلوں کی دعائیں سمیٹنے والی خدمت ہوگی۔
وہ دعائیں ان ماؤں کی ہوں گی جو اپنے بچوں کے ساتھ اہلِ بیت علیہم السلام کی زیارت کی آرزو رکھتی ہیں؛ ان بزرگوں کی ہوں گی جو عمر بھر میں ایک مرتبہ کربلا دیکھنا چاہتے ہیں؛ ان غریب اور متوسط خاندانوں کی ہوں گی جو اپنی استطاعت کے مطابق زیارت کا خواب دیکھتے ہیں؛ اور ان لاکھوں زائرین کی ہوں گی جو نجف و کربلا کی مقدس سرزمین پر پہنچ کر اپنے وطن اور اپنے محسنوں کے لیے دعا کرتے ہیں۔
میرا یقین ہے کہ ان زائرین کی دعائیں آپ کے ساتھ رہیں گی اور یہی دعا و خدمت دنیا میں بھی انسان کا سرمایہ بنتی ہے اور آخرت میں بھی۔
آج آپ کے پاس جو اختیار، جو مقام اور جو منصب ہے، اس کے ذریعے اگر آپ یہ کام کر جائیں تو آنے والے وقت میں شاید بہت سے لوگ آپ کے منصب کو بھول جائیں، بہت سی سیاسی اور انتظامی باتیں وقت کے ساتھ گزر جائیں لیکن ان زائرین کے دلوں سے نکلنے والی دعائیں باقی رہیں گی اور شاید یہی کسی منصب کی سب سے خوبصورت میراث ہوتی ہے کہ انسان اپنے اختیار کے زمانے میں کوئی ایسا کام کر جائے جس کا فائدہ اس کے بعد بھی لوگوں کو پہنچتا رہے۔
اسی امید کے ساتھ یہ تحریر آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ ممکن ہے یہ خط ایک کاغذ ہو مگر اس کے پیچھے لاکھوں زائرین کی ایک امید ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو پاکستان کی خدمت، پاکستانی شہریوں کی عزت اور ضرورت مند لوگوں کی آسانی کا ذریعہ بنائے، آپ کے لیے دنیا و آخرت میں خیر کے دروازے کھولے، آپ کو صحت، عزت، استقامت اور مزید خدمت کی توفیق عطا فرمائے، اور آپ کی ہر مخلصانہ کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور بالخصوص نجف و کربلا جانے والے ان زائرین کی دعاؤں میں آپ کو ہمیشہ حصہ عطا فرمائے۔
والسلام
آپ کا خیر اندیش
سید ذہین علی نجفی
دینی طالب علم و خادمِ زائرین
مقیمِ عراق (گزشتہ تقریباً 14 سال سے)









آپ کا تبصرہ