حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد حوزہ علمیہ قم استاد ہادوی تہرانی نے قم میں اسلامی علوم کے ٹیکنالوجی سے متعلق جدید منصوبوں کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ’ہُدیٰ‘ نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر کی تیاری کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا
انہوں نے کہا کہ ’ہُدیٰ‘ کسی ایک ادارے کی ملکیت نہیں بلکہ حوزہ علمیہ کی مشترکہ علمی کاوش ہے، اس لیے تمام حوزوی مراکز کو چاہیے کہ وہ اپنی تیار کردہ علمی اور تحقیقی کتب و مواد اس نظام کے حوالے کریں تاکہ اسے مزید بہتر اور جامع بنایا جاسکے۔
استاد ہادوی تہرانی نے کہا کہ حوزہ علمیہ نہ صرف اسلامی علوم بلکہ ایک اعتبار سے انسانی علوم میں بھی کمپیوٹر کے استعمال کے میدان میں پیش پیش رہا ہے اور یہ حوزہ کے لیے باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے ’ہُدیٰ‘ میں موجود علمی ذرائع کی محدودیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مختلف حوزوی مراکز کی جانب سے بڑی مقدار میں علمی مواد تیار کیا گیا ہے، جسے اس سافٹ ویئر میں شامل کیا جانا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہُدیٰ‘ سے حاصل ہونے والے ہر جواب کو لازماً درست تصور نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ موجودہ محدود ذرائع کے باعث نظام میں غلطی کا امکان موجود ہے اور مستقبل میں بھی اس امکان کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔
استاد ہادوی تہرانی نے تاکید کی کہ اس سافٹ ویئر کا استعمال علم، تخصص اور ضروری رہنمائی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ کسی غیرمتخصص طالب علم کو یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ ’ہُدیٰ‘ کی موجودگی میں وہ ضروری علمی پس منظر کے بغیر تخصصی مباحث یا درس خارج میں داخل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام حوزوی ادارے اس علمی و ٹیکنالوجی منصوبے میں تعاون کریں گے تاکہ ’ہُدیٰ‘ مستقبل قریب میں حوزہ علمیہ کے وسیع علمی ذخیرے سے استفادہ کرسکے۔









آپ کا تبصرہ