اتوار 6 ستمبر 2026 - 19:43
عراق کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو عوام کو مشکلات سے نجات دلائے اور ملکی خودمختاری کا تحفظ کرے

حوزہ / امام جمعہ بغداد آیت اللہ سید یاسین موسوی نے بعض حکام کی اقتصادی پالیسیوں اور سیاسی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے عوامی، عادلانہ اور بیرونی مداخلت سے آزاد حکومت کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نجف اشرف کے ممتاز استادِ حوزہ علمیہ اور امام جمعہ بغداد آیت اللہ سید یاسین موسوی نے کہا: عراق کو اس وقت شفافیت اور نئی حکومت کے پروگرام کی وضاحت کے حوالے سے بحران کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا: حکومت سازی بذاتِ خود مقصد نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے ساتھ عدل و انصاف کا قیام بھی ضروری ہے کیونکہ جو حکومت عدل کے بغیر چلائی جائے وہ اپنے مقصد اور فلسفۂ وجود سے محروم ہوجائے گی۔

آیت اللہ موسوی نے اعلیٰ دینی مرجعیت کی جانب سے سیاسی طرزِ عمل میں تبدیلی کے سابقہ مطالبات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایسے نئے چہروں اور شخصیات کے انتخاب کی ضرورت پر زور دیا جن کے ماضی کے کردار اور کارکردگی کا عوام کو منفی اور ناخوشگوار تجربہ نہ ہو۔

امام جمعہ بغداد نے کہا: باشعور قوم کو خاموش نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے اپنی آواز بلند کرتے ہوئے اپنے حقوق کا مطالبہ اور حکام سے جواب طلبی کرنی چاہیے۔

انہوں نے اعلیٰ دینی مرجعیت کی رہنمائی میں اجتماعی کوششوں کے ذریعے مستقبل کی ایسی سیاسی قیادت تشکیل دینے پر زور دیا جو علم، عدالت اور ملک کو چلانے اور موجودہ صورتِ حال کی اصلاح کی صلاحیت رکھتی ہو۔

آیت اللہ موسوی نے بعض سیاست دانوں کی امریکہ سے وابستگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا: عراق کی خودمختاری سے متعلق امور بالخصوص اسلحے کے ریاستی اختیار میں انحصار کا مسئلہ ایک داخلی اور عراقی معاملہ ہونا چاہیے اور اسے بیرونی طاقتوں کے احکامات اور دباؤ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا: عراق کا اصل مسئلہ نہ اسلحہ ہے اور نہ تیل بلکہ ’’ملکی خودمختاری اور سیاسی فیصلوں میں استقلال‘‘ ہے۔ انہوں نے ایسی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا جو حقیقی معنوں میں عوام کی حکومت ہو، شہریوں کو مشکلات سے نجات دلانے اور عدل کے قیام کے لیے کوشش کرے اور بیرونی طاقتوں کی وابستگی سے دور رہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha