اتوار 6 ستمبر 2026 - 20:26
سہارنپور میں مسجد کا انہدام آئین اور قانون کی بالادستی کا تمسخر ہے: مولانا کلب جواد نقوی

حوزہ/ سہارنپور کی مسجد کے انہدام پر مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس سلسلے میں آزادانہ اور اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اتر پردیش میں سہارنپور کلیکٹریٹ کمپلیکس میں واقع مسجد کے انہدام پر مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا ڈاکٹر کلب جواد نقوی نے سخت ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجد پر جس طرح بلڈوزر چلایا گیا، اس سے قانون کی حکمرانی، آئینی اقدار اور انتظامیہ کی جواب دہی پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ اگر کسی تعمیر کو قانون کے مطابق ہٹانا ضروری تھا تو حکومت کو قانونی کارروائی کا اختیار حاصل ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والا کوئی بھی افسر خود قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے دیا گیا وقت بھی ملحوظ نہیں رکھا گیا، جس کی وجہ سے اس کارروائی پر سوالات اٹھتے ہیں اور پورے معاملے کی تحقیقات ضروری ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ مسجد منہدم کرنے کا تحریری حکم کس افسر نے جاری کیا، کس نے اس کی منظوری دی، جے سی بی اور دیگر مشینری استعمال کرنے کا قانونی اختیار کس کے پاس تھا اور پوری کارروائی کی کمان کس افسر کے ہاتھ میں تھی؟ مولانا نے کہا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ کارروائی عدالتی حکم کی تعمیل میں کی گئی؛ اصل حکم عوام کے سامنے لایا جائے اور کارروائی کے طریقہ کار کی بھی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔

مولانا کلب جواد نقوی نے سہارنپور کے متعلقہ انتظامی اور پولیس افسران کے کردار کی آزادانہ، غیر جانب دار اور اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات سے پہلے کسی افسر کو مجرم قرار دینا مناسب نہیں، لیکن کسی افسر کو صرف عہدے کی بنیاد پر تحقیقات سے باہر رکھنا بھی قانون کی حکمرانی کے خلاف ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کسی استعماری ذہنیت سے نہیں بلکہ آئین اور قانون کے مطابق چلتا ہے اور کسی سرکاری عہدے پر فائز افسر قانون سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔

مولانا نے واضح کیا کہ ہم کسی غیر قانونی تعمیر کی حمایت نہیں کر رہے۔ اگر کوئی تعمیر غیر قانونی تھی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، لیکن اگر قانون نافذ کرنے کے عمل میں ہی قانون کو نظر انداز کیا گیا ہے تو ذمہ دار افسران سے بھی جواب طلب ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان میں کسی بھی تعمیر کو منہدم یا ہٹانے کی کارروائی آئین اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ سرکاری دفاتر، شاہراہوں اور دیگر سرکاری مقامات پر موجود مذہبی عبادت گاہوں کے بارے میں بھی یکساں قانونی معیار کیوں نہیں اپنایا جاتا؟

مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا کہ وہ اس معاملے میں سپریم کورٹ، الہ آباد ہائی کورٹ، وزیر اعظم دفتر، صدر جمہوریہ، وزیر اعلیٰ اترپردیش اور گورنر اترپردیش کے سامنے آزادانہ تحقیقات اور ذمہ دار افسران کی جواب دہی کا مطالبہ رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی افسر کی جانب سے آئینی و قانونی حدود سے تجاوز، اختیارات کے ناجائز استعمال یا کسی جرم کا ثبوت ملتا ہے تو اس کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہیے اور عدالت میں جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سخت سزا دی جانی چاہیے۔

مولانا کلب جواد نقوی نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک عمارت کی چار دیواری کا نہیں بلکہ اس بنیادی سوال کا ہے کہ ہندوستان میں قانون بالاتر ہے یا قانون نافذ کرنے والوں کی من مانی۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین کے دائرے میں انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی افسر مجرم ثابت ہوتا ہے تو اس کی کرسی نہیں بلکہ اس کا عمل قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہیے۔

مولانا کلب جواد نقوی کے اہم مطالبات

  1. - مسجد کے انہدام کا اصل تحریری حکم عوام کے سامنے لایا جائے۔
  2. - حکم نامے کا نمبر، تاریخ اور دستخط کرنے والے افسر کا نام واضح کیا جائے۔
  3. - مکمل انتظامی فائل اور نوٹ شیٹ محفوظ کی جائے۔
  4. - سی سی ٹی وی فوٹیج اور کارروائی کی ویڈیو محفوظ کی جائے۔
  5. - جے سی بی، ڈمپر اور دیگر سرکاری مشینری کے استعمال کے احکامات کی تحقیقات کی جائیں۔
  6. - پولیس اور پی اے سی کی تعیناتی کے احکامات اور متعلقہ ریکارڈ سامنے لایا جائے۔
  7. - کارروائی میں شامل تمام افسران اور ملازمین کے کردار کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔
  8. - اختیارات کے غلط استعمال یا قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر متعلقہ افسر کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔
  9. - جرم ثابت ہونے کی صورت میں عدالت کے ذریعے قانون کے مطابق سزا دلائی جائے۔
  10. - انتظامی بدعنوانی یا سنگین بے ضابطگی ثابت ہونے پر سخت محکمانہ کارروائی کی جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha