حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک نورانی روایت کی روشنی میں کہا کہ ’’بات کرنا، کسی بات کو قبول کرنا یا رد کرنا، تحقیق کی بنیاد پر ہونا چاہیے، یہی معاشرے کی ترقی کے لیے قرآن کا بنیادی حکم ہے اور حوزہ و یونیورسٹی سے وابستہ افراد کو بغیر دلیل کسی بات کی تصدیق یا تردید سے پرہیز کرنا چاہئے۔
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے کہا: چونکہ قرآن کریم حق پر مبنی کتاب ہے اور اس میں کسی قسم کی باطل یا بے بنیاد بات کی گنجائش نہیں، اس لیے قرآن کریم تمام انسانوں، بالخصوص امتِ مسلمہ اور حوزہ و یونیورسٹی سے وابستہ اہلِ علم کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ کسی بات کو قبول یا کسی دوسری بات کو رد کرتے وقت تحقیق اور دلیل کے بغیر ہرگز رائے نہ دیں۔
یہ خالص قرآنی ہدایت ایک زندہ اور بیدار قوم کی ثقافتی ترقی اور فکری بالیدگی کی ضمانت ہے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: إِنَّ اَللَّهَ خَصَّ عِبَادَهُ بِآیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِهِ أَنْ لاَ یَقُولُوا حَتَّی یَعْلَمُوا وَ لاَ یَرُدُّوا مَا لَمْ یَعْلَمُوا وَ قَالَ عَزَّ وَ جَلَّ: «أَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِیثاقُ اَلْکِتابِ أَنْ لا یَقُولُوا عَلَی اَللّهِ إِلاَّ اَلْحَقَّ» وَ قَالَ: «بَلْ کَذَّبُوا بِما لَمْ یُحِیطُوا بِعِلْمِهِ وَ لَمّا یَأْتِهِمْ تَأْوِیلُهُ».
’’اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی دو آیات کے ذریعے اپنے بندوں کو دو باتوں کے ساتھ خاص ہدایت دی ہے: وہ اس وقت تک کوئی بات نہ کہیں جب تک اس کا علم نہ رکھتے ہوں، اور جس بات کا انہیں علم نہ ہو اسے رد نہ کریں۔‘‘
پھر امام صادق علیہ السلام نے قرآن کی ان آیات کی طرف اشارہ فرمایا: ’’کیا ان سے کتاب میں عہد نہیں لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہیں؟‘‘
اور ایک مقام پر ارشاد ہے: ’’بلکہ انہوں نے اس چیز کو جھٹلا دیا جس کے علم کا انہیں احاطہ نہیں تھا، اور ابھی اس کی حقیقت بھی ان کے سامنے نہیں آئی تھی۔‘‘
ماخذ: سروش ہدایت، جلد 5، صفحہ 191









آپ کا تبصرہ