حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے آمل شہر کے حوزہ علمیہ کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں علما، دانشوروں اور حوزاتِ علمیہ کے طلاب کو نصیحت کرتے ہوئے علم، انسان اور انسان کے علم تک رسائی کے راستے کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا: علم کی قدر و قیمت معلوم کی اعتبار سے ہے اور عالم کی قدر علم کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے علم کو نظامِ خلقت کے بنیادی ارکان میں سے ایک قرار دیتے ہوئے قرآن کریم کی آیات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اللہ تعالیٰ نے خود کو معلم کے طور پر متعارف کرایا اور انسان کو سب سے پہلی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ کُلَّهَا﴾، پھر فرمایا: ﴿عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ﴾۔ اللہ تعالیٰ نے خلقت اور نظامِ ہستی کا آغاز علم سے کیا، علم کے ذریعہ اسے جاری رکھا اور علم ہی کے ذریعے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔
اس مرجع تقلید نے علم اور رحمت کے درمیان تعلق کو بیان کرتے ہوئے سورۂ الرحمن کی آیات "الرَّحْمَٰنُ، عَلَّمَ الْقُرْآنَ، خَلَقَ الْإِنسَانَ، عَلَّمَهُ الْبَیَانَ" کی طرف اشارہ کیا اور کہا: الٰہی تعلیم کا سفر رحمت سے شروع ہوتا ہے اور قرآن کی تعلیم کے ذریعے آگے بڑھتا ہے، انسان بننے کی منزل تک پہنچتا ہے اور بالآخر بیان کی صلاحیت پر منتج ہوتا ہے۔ یعنی ’’الرحمن‘‘ ایک، ’’علم القرآن‘‘ دو، اس کے بعد ’’خلق الإنسان‘‘ تین اور پھر ’’علمه البیان‘‘ چار۔
حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے کہا: انسان کی زبان اور قلم سے نکلنے والی بات اس وقت ’’بیان‘‘ کہلاتی ہے جب وہ ایسے انسان کی طرف سے صادر ہو جو قرآن کا شاگرد اور الٰہی تعلیمات سے آراستہ ہو۔ نہ کہ ایسے شخص کی گفتگو اور تحریر جو خواہشاتِ نفسانی اور ذاتی خواہشات سے متاثر ہو۔
انہوں نے کہا: حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی میں زیرِ بحث چار بنیادی پہلو یہ ہیں: سب سے پہلے توحید، اس کے بعد قرآن کی تعلیم، پھر انسانیت اور اس کے بعد گفتگو، تعلیم اور تربیت ہے۔
حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے علم اور ایمان کے بارے میں ارشاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علم اور ایمان کے باہمی تعلق کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: ’’بِالْإِیمَانِ یُعْمَرُ الْعِلْمُ‘‘؛ علم کبھی فرسودہ اور پرانا ہو جاتا ہے اور جو چیز علم کی تعمیر، احیا اور اسے مؤثر بناتی ہے وہ ایمان ہے۔ ایمان ہی علم کو زندہ، شاداب اور ثمر بخش رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا: فرسودہ علم ایک مہذب معاشرے کو وجود میں نہیں لا سکتا۔ ایسا حوزہ علمیہ ہی آباد اور معاشرے کو آباد کر سکتا ہے جس کا علم زندہ ہونے کے ساتھ ساتھ سالم اور آباد بھی ہو اور علم کی آبادی ایمان کے ذریعے ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے راستے کو پہچان کر اس پر چلتا ہے اور دوسروں کا راستہ بند نہیں کرتا تو یہ علم ’’معمور‘‘ یعنی آباد ہے۔ آباد حوزہ معاشرے کو آباد کرتا ہے اور آباد یونیورسٹی بھی معاشرے کو آباد کرتی ہے۔
اس مرجع تقلید نے جدید اور سالم و درست علم کے حصول کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: جو علم فرسودہ اور پرانا ہو چکا ہو، وہ نہ حوزہ علمیہ کو ترقی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے اور نہ یونیورسٹی کو شکوہ و عظمت عطا کر سکتا ہے؛ اس لیے ایسا علم حاصل کرنا چاہیے جو فرسودہ نہ ہو اور اگر اس میں فرسودگی کے آثار پیدا ہو جائیں تو ایمان اور عمل صالح کے ذریعے اس کی اصلاح اور تجدید کی جائے۔









آپ کا تبصرہ