جمعرات 10 ستمبر 2026 - 20:45
آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای رہبر شہید امت کے نقشِ قدم پر رہبری کا فریضہ انجام دے رہے ہیں: مولانا سید شمع محمد رضوی

حوزہ/ صوبۂ بہار کے گوپال پور میں منعقدہ مجلس عزاء سے مولانا سید شمع محمد رضوی نے خطاب کرتے ہوئے رہبری کے تسلسل، انقلاب اسلامی کے فکری اصول، بصیرت و استقامت، شہداء کے مشن اور نوجوان نسل کی دینی و فکری تربیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی رہبری کے حوالے سے قیادت کے فکری و علمی پہلوؤں اور موجودہ دور میں امت مسلمہ کی ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صوبۂ بہار کے گوپال پور میں مجلس ایصال ثواب کا انعقاد کیا گیا۔ جسمیں حجۃ الاسلام والمسلمین سید شمع محمد رضوی نے رہبری، انقلاب اسلامی کے فکری اصول، شہداء کے کردار، نوجوانوں کی دینی تربیت اور موجودہ دور میں امت مسلمہ کی ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔ انہوں نے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت کے حوالے سے رہبری کے تسلسل، علمی و دینی تربیت اور انقلاب اسلامی کے بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالی۔

مولانا سید شمع محمد رضوی نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں کسی بھی قوم کے لیے اپنی فکری خودمختاری، اصولوں اور نظریاتی شناخت پر قائم رہنا ایک اہم چیلنج ہے۔ ان کے بقول، انقلاب اسلامی ایران نے مختلف سیاسی، اقتصادی اور فوجی دباؤ کے باوجود اپنے بنیادی اصولوں پر قائم رہنے کی کوشش کی ہے اور اس کے لیے قیادت، بصیرت اور اجتماعی استقامت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

انہوں نے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی رہبری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قیادت کے لیے سابقہ رہبری کے تجربات، دینی و علمی تربیت اور انقلاب اسلامی کے بنیادی اصولوں کا تسلسل اہم حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، رہبری کا منصب صرف انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ فکری رہنمائی اور امت کی اجتماعی سمت متعین کرنے سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

مولانا نے رہبر کے انتخاب کے طریقۂ کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رہبری کے انتخاب میں شرعی اور قانونی تقاضوں کی رعایت ضروری ہے۔ انہوں نے مجلسِ خبرگان کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رہبر کا انتخاب غور و فکر، مشاورت اور مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تحت انجام پاتا ہے۔

انہوں نے آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے علمی و دینی پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے قم میں حوزۂ علمیہ کے اساتذہ اور علماء سے دینی علوم حاصل کیے اور اپنے والد، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای، سے بھی علمی و تربیتی رہنمائی حاصل کی۔

مولانا سید شمع محمد رضوی نے خاندان اور بچوں کی دینی تربیت کو بھی اپنی گفتگو کا حصہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دینی تربیت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے اور والدین کے کردار، گھریلو ماحول اور عملی نمونے کا بچوں کی شخصیت پر گہرا اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا: "اپنے گھر کو جنت بناؤ اور جہنم سے دور ہو جاؤ۔ اپنے بچوں کو دین سے اس طرح مانوس کرو جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کے دودھ سے مانوس ہوتا ہے۔"

مولانا نے مجالس کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجالس میں فضائل و مصائب کے ساتھ ساتھ ایسے موضوعات کو بھی جگہ دی جانی چاہیے جو نوجوانوں میں علم، معرفت، بصیرت اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور پیدا کریں۔

ان کے مطابق، دینی اجتماعات کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ نئی نسل حق و باطل کی شناخت، شہداء کے مقاصد، قربانی کے مفہوم اور اپنے دینی و اجتماعی فرائض سے آگاہ ہو۔

انہوں نے شہادت کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شہادت محض موت کا نام نہیں بلکہ حق، عدل اور دین کے دفاع میں ذمہ داری کو سمجھنے اور ضرورت پڑنے پر قربانی کے لیے آمادہ رہنے کا نام ہے۔

مولانا سید شمع محمد رضوی نے شہید رہبر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی علمی، دینی اور انقلابی جدوجہد کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ قیادت کے فکری تسلسل کو سمجھنے کے لیے رہبر کی علمی و تربیتی زندگی اور ان کے طرزِ فکر کا مطالعہ ضروری ہے۔

انہوں نے موجودہ نسل بالخصوص نوجوانوں کو دینی تعلیم، فکری تربیت اور اجتماعی شعور کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عصر حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ صرف جذبات کے ذریعے نہیں بلکہ علم، بصیرت، اخلاق اور ذمہ دارانہ کردار کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha