حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مورخین اور اہل بیت علیہم السلام کی تاریخ کے محققین کے مطابق امام حسن عسکری علیہ السلام کا زمانہ ائمہ طاہرین علیہم السلام کی زندگی کے مشکل ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اس دور میں خود امام علیہ السلام اور آپ کے اصحاب و پیروکار غیر معمولی سیاسی اور سماجی پابندیوں کا سامنا کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ منقول ہے کہ جب امام علیہ السلام قید خانے میں تھے تب بھی جاسوس آپ کی نگرانی کیا کرتے تھے۔
دوسری جانب امام علیہ السلام کی رہائی اس شرط سے مشروط تھی کہ آپ ہفتے میں دو مرتبہ دارالخلافہ میں اپنی حاضری کی اطلاع دیں۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ امام علیہ السلام کے قریبی ساتھیوں کو بھی عوامی مقامات پر آپ علیہ السلام کو آواز دینے کی اجازت نہیں تھی اور بسا اوقات انہیں بھی امام علیہ السلام کے ہمراہ گرفتار کر لیا جاتا تھا۔
امام علیہ السلام اور شیعوں کے خلاف سخت سکیورٹی کی وجوہات
امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں سخت سکیورٹی کی وجوہات کے حوالے سے قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ حکومت کی نظر میں ائمہ علیہم السلام کے بنیادی افکار سے آگاہی، جس کے مطابق وہ مسلمانوں کی حکومت کے خود کو حقدار سمجھتے تھے، عباسیوں کی مخالفت میں مسلح ہونے والے دیگر سیاسی گروہوں کی نمایاں سرگرمیوں اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے خلاف کی جانے والی ان شکایات کو یکجا کرتے ہوئے، جن میں آپ علیہ السلام کی جانب سے لوگوں سے اموال یا وجوہات وصول کرنے اور بڑی تعداد میں خطوط خفیہ طور پر وصول کرنے اور بھیجنے کا ذکر کیا جاتا تھا، یہ نتیجہ اخذ کیا کہ امام علیہ السلام حکومت کے لیے ایک خطرناک عنصر ہیں جو حکومتی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے امام علیہ السلام کی تقریباً چھ سالہ امامت ان کے اصحاب اور پیروکاروں کے لیے شدید اضطراب کے ماحول میں گزری، یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کو شہید کیے جانے کا خدشہ بھی بعید از قیاس نہیں تھا۔
وکالت کے نظام کی مدبرانہ مدیریت
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے سے قبل دیگر ائمہ اطہار علیہم السلام کی طرح شیعوں سے رابطے کے لیے نمائندوں سے استفادہ کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ ’’وکالت‘‘ کا یہی مدبرانہ نظام، جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے میں شروع ہوا تھا، امام عسکری علیہ السلام کے دور میں اپنی کارآمدی اور وسعت کے عروج پر پہنچا۔
امام کے یہ نمائندے مختلف اسلامی شہروں میں موجود تھے اور ان کے ذمے متعدد ذمہ داریاں تھیں، جن میں درج ذیل امور شامل تھے:
1۔ شرعی وجوہات، یعنی خمس اور زکوٰۃ جمع کرنا۔
2۔ شیعوں کے شرعی اور اعتقادی مسائل کا جواب دینا۔
3۔ امام علیہ السلام کے پیغامات اور ہدایات شیعہ معاشرے تک پہنچانا۔
4۔ متعہد اور امین افراد کی شناخت اور ان کی تربیت کرنا۔
اہم بات یہ ہے کہ امام عسکری علیہ السلام کی مدبرانہ قیادت میں قائم اس منظم نیٹ ورک کی بدولت شدید قید و بند اور پابندیوں کے باوجود شیعوں کا امام علیہ السلام سے روحانی اور تنظیمی رابطہ منقطع نہ ہوا۔
امام علیہ السلام کی شجاعت
امام علیہ السلام کی شجاعت کے لیے یہی کافی ہے کہ اسی گھٹن اور جبر کے ماحول میں آپ علیہ السلام نے ایک بامعنی عبارت میں اپنے آپ علیہ السلام کو ’’ظلم کے مقابلے میں مزاحمت کرنے والے شیروں اور دشمن کے چہرے پر ضرب لگانے والوں‘‘ سے تعبیر کیا۔
امام علیہ السلام کی نورانی زندگی اور سیرت کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام شیعوں کے فکری اور روحانی مسائل کے حل پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے اور ان کی مالی مشکلات دور کرنے کے لیے اموال بھیجنے کا بھی اہتمام فرماتے تھے۔ اسی دوران آپ علیہ السلام نے وکلا کے نظام کو مزید منظم اور مستحکم کیا اور اللہ تعالیٰ کی عنایت پر توکل کرتے ہوئے اپنے خطوط میں مسلسل پیروکاروں کو اس بات کی تلقین فرماتے تھے کہ حکمرانوں کے ظلم کو اللہ تعالیٰ پر امید اور توکل کے مقابلے میں معمولی سمجھیں۔
دشمنوں کا امام علیہ السلام کے بلند مقام کا اعتراف
امام علیہ السلام کے بلند مقام کے بارے میں اہلِ فکر کے اعتراف کے لیے یہی روایت کافی ہے کہ جب امام علیہ السلام کو ایک غیر شیعہ عالم کی جانب سے قرآن میں تناقض کے حوالے سے ایک کتاب لکھنے کی خبر ملی تو آپ علیہ السلام نے ایک شخص کو کچھ کلمات سکھا کر اس عالم کے پاس بھیجا۔
جب اس ممتاز عالم نے وہ کلمات سنے تو کہا: ’’یہ کلام نہ تمہاری طرف سے ہو سکتا ہے اور نہ تم جیسے کسی شخص کی طرف سے۔‘‘ جب اسے معلوم ہوا کہ پیش کیا جانے والا استدلال امام حسن عسکری علیہ السلام کا ہے تو اس نے اہل بیت علیہم السلام کے مقام کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: ’’ما کان لیخرج مثل هذا إلا من هذا البیت‘‘ یعنی ’’اس طرح کی بات اس گھرانے کے سوا کسی اور سے صادر نہیں ہو سکتی۔‘‘ اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ مذکورہ کتاب میں جو کچھ لکھا جا چکا ہے، اسے آگ میں جلا دیا جائے۔









آپ کا تبصرہ