جمعرات 15 اکتوبر 2026 - 14:51
عقیدہ جبر کے خلاف عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں حضرت زینب (س) کا موقف تاریخی تھا: آیت اللہ جوادی آملی

حوزہ/ حضرت آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی نے کہا ہے کہ عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں نظریۂ جبر کے خلاف حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کا موقف تاریخی تھا؛ انہوں نے «مَا رَاَیْتُ اِلَّا جَمِیلًا» کے ذریعے اموی جبرگرائی کی فکر کو شکست دی اور انسان کی اختیار و ذمہ داری کی حقیقت واضح کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی کا ہفتہ وار درس اخلاق گزشتہ روز مسجد اعظم قم المقدسہ میں مختلف طبقات کے لوگوں کی موجودگی میں منعقد ہوا۔

اس نشست میں انہوں نے حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے یومِ ولادت با سعادت کی مناسبت سے اہل بیت علیہم السلام کے علمی و معرفتی مقام کی وضاحت کی اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے عبیداللہ بن زیاد کے سامنے بیان کردہ کلمات کا تجزیہ کرتے ہوئے جبرگرایی کی فکر کے مقابلے میں ان کے کردار اور انسان کی ذمہ داری کے تبیین کو تشریح کیا۔

انہوں نے کہا: حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کا کوفہ میں خطاب محض گریہ و مصیبت کا بیان نہیں تھا، بلکہ یہ ایک گہرا اور دقیق اعتقادی و کلامی مسئلے کی طرف اشارہ کرنے والا کلام تھا۔ معاویہ نے اپنے طویل دورِ حکومت میں طاقت کے استحکام اور حکومت کے تسلسل کے لیے نظریہ جبر کو فروغ دیا تاکہ خیر و برکات حکومت کے نام سے ثبت ہوں اور برائیاں خداوند کی طرف منسوب کی جائیں۔

انہوں نے تاکید کی: بنی امیہ اور ان کے بعد بنی عباس اور دیگر حکمران اپنے مظالم کے جواز اور اپنی طاقت کے تحفظ کے لیے واقعات کو قضا و قدر الٰہی سے منسوب کرتے تھے تاکہ خود کو اپنے اعمال کی ذمہ داری سے بری دکھا سکیں، جبکہ اہل بیت علیہم السلام نے «لَا جَبْرَ وَ لَا تَفْوِیضَ وَلٰکِنْ اَمْرٌ بَیْنَ الْاَمْرَیْنِ» کی حقیقت بیان کرتے ہوئے انسان کو اپنے اعمال و کردار کا ذمہ دار قرار دیا۔

انہوں نے کہا: ائمہ علیہم السلام معرفت کی بلند چوٹی پر دقیق علمی و عقلی مسائل کی وضاحت کرتے تھے اور فکری و اعتقادی انحرافات کے سامنے ڈٹ جاتے تھے۔ آپ نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور عبیداللہ بن زیاد کے درمیان گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: جب عبیداللہ بن زیاد نے حضرت زینب سے پوچھا کہ تم نے دیکھا خدا نے تمہارے بھائی کے ساتھ کیا کیا؟ تو یہاں بات میں اور ہم اور بنی امیہ کی نہیں تھی، بلکہ جبر کے موقف سے خدا کا نام لیا جا رہا تھا۔ حضرت زینب نے جواب دیا: «مَا رَاَیْتُ اِلَّا جَمِیلًا» یعنی خدا کا کام خوبصورت ہے، لیکن قاتل تم ہو، علی بن الحسین کو شہید تم نے کیا۔ اس طرح انہوں نے اموی جبری فکر کو شکست دی اور اختیار و ذمہ داری انسانی کی حقیقت بیان کی۔

انہوں نے مزید کہا: امیرالمؤمنین علیہ السلام نے نهج البلاغہ میں ارشاد فرمایا: «اَلَا حُرٌّ یَدَعُ هٰذِهِ اللُّمَاظَةَ لِاَهْلِهَا، اِنَّهُ لَیْسَ لِاَنْفُسِکُمْ ثَمَنٌ اِلَّا الْجَنَّةَ، فَلَا تَبِیعُوهَا اِلَّا بِهَا»؛ کیا کوئی آزاد مرد ایسا نہیں جو کھانے کی یہ بچی ہوئی چیز اس کے اہل کو دے دے؟ جان لو کہ تمہارے وجود کی قیمت جنت کے سوا کچھ نہیں، اسے جنت کے علاوہ کسی اور چیز کے عوض نہ بیچو۔

انہوں نے «لماظہ» کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: لماظہ دانتوں کے درمیان رہ جانے والی غذا کا بقیہ حصہ ہے۔ بہت سے عہدے، حوزوی ہوں یا عالمی، سیاسی ہوں یا سماجی، یہ سب لماظہ ہیں۔ انسان آزاد وہ ہے جو خود کو ان امور میں مصروف نہ کرے اور اپنے وجود کی قدر پہچانے۔ انسان کی قیمتِ حقیقی بہشت ہے، لہذا خود کو اس سے کم پر نہ بیچیں۔

آپ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے کلام «اَلْقَلْبُ مُصْحَفُ الْبَصَر» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: انسان کو اپنے دل کی کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اس کا دل اس سے کیا چاہتا ہے۔ قلب میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنے خدا سے مناجات کرے اور یادِ الٰہی کے ذریعے معنوی فاصلے طے کرے۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے آخری حصے میں روح کی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلام میں زن و مرد ہونا انسان کے جسمانی پہلو سے متعلق ہے، لیکن روح نہ مذکر ہے نہ مؤنث۔ بدن روح کی پرواز کی سیڑھی ہے، نہ یہ کہ جسمانی خصوصیات روح کی حقیقت میں دخل رکھتی ہوں۔ روح کمال و تجرد کی راہ پر گامزن ہے اور اسی اعتبار سے انسانی حقیقت زن و مرد ہونے تک محدود نہیں۔

آپ نے آخر میں حاضرین اور علمی تحقیق کی راہ پر گامزن تمام افراد کے لیے دعا کی اور امید ظاہر کی کہ سب حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی دعا کے مشمول ہوں اور نظام اسلامی اہل بیت علیہم السلام کی عنایت کے سائے میں خطرات سے محفوظ رہی اور حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں پیش ہوں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha