حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیرِ حوزہ علمیہ کرمانشاہ حجت الاسلام والمسلمین ایرانی نے مدرسہ علمیہ شہید امام خامنہ ای (رہ) میں نئے داخل ہونے والی طالبات سے کامیاب طالب علم کی خصوصیات کے موضوع پر خطاب کیا۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے آغاز میں رہبر معظم کی نمایاں خصوصیات میں شجاعت، بصیرت، دور اندیشی اور ہمدردی کا ذکر کیا۔
مدیرِ حوزہ علمیہ کرمانشاہ نے شہید مطہری (رہ) کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اگر کوئی طالب علم معینہ تعلیمی و تربیتی معیارات کے مطابق اپنی تربیت اور نشوونما نہ کرے تو معاشرے میں اس کی موجودگی مؤثر ثابت نہیں ہو گی۔

انہوں نے ایک مثالی طالب علم بننے کے لیے تین بنیادی ارکان بیان کرتے ہوئے کہا: تقویٰ اور خوفِ خدا وہ پہلا رکن ہے جو انتہائی اہم ہے۔ طالب علم چونکہ معاشرہ کی ہدایت و رہنمائی کی ذمہ داری ادا کرتا ہے، اس لیے حلال و حرام کی پابندی میں اسے دوسروں سے زیادہ پیش پیش اور ثابت قدم ہونا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کے لیے عملی نمونہ بن سکے۔
انہوں نے حصولِ علم پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: طالب علم کے پاس وسیع اور گہرا علم ہونا چاہیے تاکہ وہ لوگوں کی ذہنی اور اعتقادی الجھنیں دور کر سکے اور ان کے فکری و فلسفیانہ سوالات اور اعتراضات کا جواب دے سکے۔ انہوں نے علم اور توسل کے باہمی تعلق کو بھی طالب علمی کے سفر کو جاری رکھنے کے لیے ضروری قرار دیا۔
مدیرِ حوزہ علمیہ کرمانشاہ نے بصیرت کو موجودہ دور میں طالب علمی کے اہم ارکان میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا: ماضی کے روایتی نقطۂ نظر میں علم اور اخلاق پر زور دیا جاتا تھا لیکن آج تبلیغِ دین اور حق و باطل کے محاذوں میں امتیاز کرنے کے لیے بصیرت ناگزیر ہے کیونکہ بصیرت کی کمی علمائے دین کو بھی غلطی میں مبتلا کر سکتی ہے۔










آپ کا تبصرہ