جمعرات 24 ستمبر 2026 - 05:57
کامیاب طالبِ علم وہ ہے جو اپنے علم، اخلاق، مہارت اور عمل کو یکجا کرے

حوزہ / محترمہ ناہید قاسم پور نے طالب علمی کے ضروری اصول و ضوابط، تعلیم حاصل کرنے کی بنیادی ضرورتوں اور اس میں کامیابی کے راز بیان کرتے ہوئے کہا: کامیاب طالب علمی دراصل درس اور تزکیۂ نفس، بصیرت اور اخلاق، تخصص اور معنویت، نیز علم اور عمل کا حسین امتزاج ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے مدرسہ علمیہ تخصصی مجتہدہ امین کی مدیر محترمہ ناہید قاسم پور نے کہا: نئے تعلیمی سال میں داخل ہونا ایک نئے سفر کے آغاز کے مانند ہے۔ ایسا سفر جو جاننے، کچھ حاصل کرنے اور اپنی شخصیت کو سنوارنے کے لیے شروع ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: مدارسِ علمیہ میں یہ سفر صرف چند کتابیں پڑھنے اور چند تعلیمی مراحل مکمل کرنے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ یہ انسان کا علم سے معرفت، معرفت سے عمل اور عمل سے اثرگذاری کی جانب سفر ہے۔

مدیر مدرسہ علمیہ تخصصی مجتہدہ امین نے سورۂ طٰہٰ کی آیت 114 «وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا» یعنی ’’اور کہیے: اے میرے پروردگار! میرے علم میں اضافہ فرما‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: یہ آیت طالب علمی کے لیے سب سے خوبصورت نقشۂ راہ ہے یعنی ایک طالبِ علم کو ہمیشہ ترقی کی حالت میں رہنا چاہیے۔ اس کے علم، بصیرت، اخلاق، ایمان اور خدمت خلق میں مسلسل اضافہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی طرف بھی اشارہ کیا کہ :علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے"۔ نیز حضرت امام علی علیہ السلام کے اس فرمان کو بھی بیان کیا کہ "علم مال و دولت سے بہتر ہے" کیونکہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے، جبکہ تمہیں اپنے مال کی حفاظت کرنا پڑتی ہے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے ان اصولوں پر زور دیا

محترمہ قاسم پور نے مزید کہا: حوزۂ علمیہ میں تعلیم حاصل کرنا کوئی ثانوی یا ضمنی امر نہیں۔ جو طالبِ علم تعلیم و تعلم کو سنجیدگی سے نہیں لیتا وہ اپنی ذمہ داری اور رسالت میں کمی کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ جو شخص خود کسی راستے پر پوری طرح دسترس حاصل نہ رکھتا ہو وہ دوسروں کے لیے چراغِ راہ اور ذریعۂ ہدایت نہیں بن سکتا لہٰذا کامیاب طالب علمی دراصل درس اور تزکیہ، بصیرت اور اخلاق، تخصص اور معنویت اور علم و عمل کا امتزاج ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha