اتوار 18 اکتوبر 2026 - 13:06
کشف و کرامت حقانیت کا معیار نہیں: آیت اللہ العظمیٰ سید جمال الدین گلپایگانیؒ

حوزہ/ آیت اللہ العظمیٰ سید جمال الدین گلپایگانیؒ نے اپنے ایک روحانی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے توسل کے ذریعے انہیں یہ حقیقت سمجھ میں آئی کہ علم، قدرت، رزق اور حیات سمیت تمام فیوض کا حقیقی سرچشمہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کشف و کرامت بذاتِ خود دینی عقائد کی صحت کا معیار نہیں ہیں۔ اہل معرفت کے نزدیک ہر روحانی مشاہدے کو درست نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ اسے دینی تعلیمات اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو تمام فیوض کا سرچشمہ ماننے کے لئے جو اصول مقرر کئے گئے ہیں ان کے مطابق پرکھنا ضروری ہے۔

مرحوم آیت اللہ العظمیٰ سید جمال الدین گلپایگانیؒ اپنے روحانی سفر کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’سیر و سلوک کے ایک مرحلے میں مجھ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی۔ اس کیفیت میں مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ تمام مخلوقات کو علم، قدرت، رزق اور حیات میں فراہم کر رہا ہوں۔ گویا ہر موجود مجھ سے مدد حاصل کر رہا ہے اور میں تمام ممکنات کو وجود عطا کرنے والا ہوں۔

ایک طرف میری یہ کیفیت تھی اور دوسری طرف مجھے اجمالی طور پر معلوم تھا کہ یہ تصور درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام نیکیوں کا سرچشمہ اور اپنی تمام مخلوقات کو رحمت اور وجود عطا کرنے والا ہے۔

یہ کیفیت کئی دن اور راتوں تک جاری رہی۔ میں نے بارہا حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے روضۂ مبارک پر حاضری دی اور دل ہی دل میں اس کیفیت سے نجات کی درخواست کی، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ بالآخر میں نے فیصلہ کیا کہ کاظمین جاؤں اور امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے اس حالت سے نجات کی دعا کروں۔

موسم سرد تھا۔ میں نجف سے کاظمین روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر سیدھا حرم مطہر میں حاضر ہوا۔ سردی کی وجہ سے ضریح کے سامنے بچھے ہوئے قالین ہٹا دیے گئے تھے۔ میں نے اپنا سر ضریح کے سامنے سنگ مرمر پر رکھا اور اتنا رویا کہ آنسو بہہ کر پتھر پر جاری ہوگئے۔

ابھی میں نے اپنا سر زمین سے نہیں اٹھایا تھا کہ امام علیہ السلام کی شفاعت ہوئی اور میری کیفیت بدل گئی۔ مجھے حقیقت سمجھ میں آگئی کہ میں کون ہوں اور میری حیثیت کیا ہے۔ میں تو ایک ذرّے کے برابر بھی نہیں اور تنکے جتنی قدرت بھی نہیں رکھتا۔ یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔

وہی ہر چیز کو فیض عطا کرنے والا ہے، وہی زندہ ہے اور زندگی عطا کرتا ہے، وہی عالم ہے اور علم عطا کرتا ہے، وہی قادر ہے اور قدرت دیتا ہے، اور وہی رزق دینے والا ہے۔

اس کیفیت کے بعد میں اٹھا، زیارت اور نماز ادا کی اور دوبارہ نجف اشرف واپس آگیا۔‘‘

ماخذ: معاد شناسی، جلد 9، صفحہ 119۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha