حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کتاب «نگاهی به رابطهٔ عبد و مولا» میں خانۂ کعبہ کے جوار میں پیش آنے والے ایک روحانی تجربے کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے قرآن کریم کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے گہرے احساس کے درمیان تعلق کو سمجھا جا سکتا ہے۔
ایک نوجوان نے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا کہ جب وہ عمرہ کے لیے گیا تو اس نے ارادہ کیا کہ سرزمینِ وحی میں قیام کے دوران ایک مرتبہ قرآن کریم ختم کرے گا۔ عمرہ کے آخری ایام میں ابھی قرآن مکمل نہیں ہوا تھا، اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ رات کو خانۂ کعبہ کے قریب بیٹھ کر تلاوت کرے گا اور قرآن مکمل کرے گا۔
وہ خانۂ کعبہ کے قریب قرآن پڑھ رہا تھا کہ اچانک اس پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ وہ کہتا ہے کہ میری حالت ایسی ہوگئی جیسے جان نکل رہی ہو اور میں بے ہوش ہونے والا ہوں۔ اسی دوران مجھے ایک گہرا احساس ہوا۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر سے فرما رہا ہے: اے میرے پیغمبر! یہ آیت بھی میرے بندے تک پہنچاؤ، یہ بات بھی اسے بتاؤ، یہ نکتہ بھی اسے سمجھاؤ۔
وہ کہتا ہے کہ یہ احساس میرے لیے بہت بھاری تھا۔ میں نے سوچا: اللہ تعالیٰ نے میرے لیے کتنے پیغامات بھیجے ہیں! میں خدا کے نزدیک کتنا اہم ہوں کہ اس نے میرے لیے اتنی باتیں فرمائی ہیں اور مجھ سے کلام کرنے کا اس قدر اہتمام کیا ہے۔
وہ مزید بیان کرتا ہے کہ جب ایک لمحے کے لیے مجھے اللہ تعالیٰ کے نزدیک اپنی اہمیت کا احساس ہوا تو میری کیفیت ایسی ہوگئی کہ خانۂ کعبہ کے پاس ہی بے خود ہونے کے قریب پہنچ گیا۔
کتاب میں اس تجربے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق میں حقیقتاً غرق ہوجائے تو وہ قرآن کے حجم کو بھی اپنے لیے اللہ کی محبت کی شدت کی علامت سمجھنے لگتا ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو اللہ کے ساتھ اس تعلق میں مشغول کرلیتا ہے تو دنیا کی دوسری چیزیں اس کی نگاہ میں اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو شخص اس تعلق کی لذت کو پالیتا ہے، وہ ایسی روحانی کیفیت سے آشنا ہوجاتا ہے جس کے بعد دنیا کے دیگر تعلقات اسے پہلے جیسے محسوس نہیں ہوتے۔
ماخذ: نگاهی به رابطهٔ عبد و مولا، ص 52









آپ کا تبصرہ