حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الجزیرہ ٹی وی نیٹ ورک نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں انٹرنیٹ کی زیرِ سمندر کیبلز کو نقصان پہنچنے سے نہ صرف علاقائی مواصلاتی نظام متاثر ہوسکتا ہے بلکہ عالمی انٹرنیٹ، بینکاری خدمات اور ڈیجیٹل کاروبار بھی سنگین مشکلات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
الجزیرہ نے اپنے تجزیے میں بتایا کہ آبنائے ہرمز صرف تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم نہیں، بلکہ یہ عالمی انٹرنیٹ نیٹ ورک کے لیے بھی ایک اہم گزرگاہ ہے۔ اس علاقے سے گزرنے والے زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبلز مختلف ممالک کو عالمی انٹرنیٹ سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ان تاروں کے ذریعے صارفین کے روزمرہ انٹرنیٹ استعمال سے لے کر بینکوں، تجارتی اداروں اور ڈیٹا مراکز کے درمیان معلومات کی ترسیل تک متعدد خدمات انجام پاتی ہیں۔ اگر ان تاروں کو نقصان پہنچے تو انٹرنیٹ کی رفتار کم ہونے، رابطوں میں تاخیر اور بعض آن لائن خدمات میں خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی ایک تار کے کٹنے سے لازمی طور پر کسی ملک یا پوری دنیا میں انٹرنیٹ مکمل طور پر بند نہیں ہوگا، کیونکہ اس نظام میں متبادل راستے بھی موجود ہیں۔ تاہم، اگر بیک وقت متعدد کیبلز متاثر ہوں اور متبادل راستوں کی گنجائش کم ہو تو مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
اس طرح کے نقصان کے معاشی اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔ بینکاری نظام، آن لائن ٹرانسفر، تجارتی سرگرمیوں اور ڈیٹا سینٹر کو معلومات کی ترسیل میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق، زیرِ سمندر تاروں کی مرمت ایک مشکل اور وقت طلب عمل ہے۔ اس کے لیے خصوصی جہازوں اور تکنیکی آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے مصروف سمندری راستوں اور کشیدگی والے علاقوں میں مرمت کا کام مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ ہنگامی حالات میں کچھ مدد فراہم کرسکتا ہے، لیکن اپنی محدود گنجائش اور دیگر تکنیکی مسائل کے باعث یہ فائبر آپٹک تاروں کا مکمل متبادل نہیں بن سکتا۔
تجزیے کے مطابق، عالمی انٹرنیٹ کے تحفظ کے لیے زیرِ سمندر تاروں کی حفاظت، متبادل مواصلاتی راستوں کی ترقی اور نیٹ ورک کی مضبوطی ضروری ہے۔










آپ کا تبصرہ