حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام زمانہؑ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے اور آپؑ سے اپنے تعلق کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان امور کو پہچانا جائے جو آپؑ کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔ شیعوں کے اعمال میں موجود ہر گناہ امامؑ کو رنجیدہ کرتا ہے اور انسان کی دنیا و آخرت کی سعادت کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ اس حوالے سے علامہ مصباح یزدی کے بیانات کی روشنی میں چند اہم نکات پیش کیے جاتے ہیں۔
علامہ مصباح یزدی فرماتے ہیں:
یہ سوال فطری ہے کہ آخر کون سا عمل امام زمانہؑ کو ناراض کرتا اور آپؑ کے قلب مبارک کو مجروح کرتا ہے؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ امام کے وجود کا مقصد کیا ہے؟
کیا امام کی آمد کا مقصد اس کے سوا کچھ ہے کہ وہ بندگانِ خدا کو راہِ الٰہی دکھائیں اور انہیں دنیا و آخرت کی سعادت سے ہمکنار کریں؟ لہٰذا اس سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ ہر گناہ امام زمانہؑ کو رنجیدہ کرتا ہے۔
جب امامؑ اپنے شیعوں کے نامۂ اعمال میں گناہوں کو دیکھتے ہیں تو یقیناً آپؑ کو رنج ہوتا ہے، البتہ گناہوں کے درجات مختلف ہیں۔
بعض چھوٹے گناہ ایسے ہیں جن کی بخشش جلد ہو سکتی ہے اور بعض کبیرہ گناہ بھی توبہ کے ذریعے معاف ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ بڑے گناہ ایسے ہوتے ہیں جن کے اثرات اور نتائج انتہائی سنگین ہوتے ہیں۔ ان کے منفی اثرات صرف گناہ کرنے والے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے اسلامی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ ایسے گناہ کی مثال اس آگ کی سی ہے جو صرف گناہگار کے دامن کو نہیں جلاتی بلکہ پورے اسلامی معاشرے کے امن، اخلاق اور دینی بنیادوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
ماخذ: مرحوم علامہ مصباح یزدی، 31 جولائی 2004ء










آپ کا تبصرہ