۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
تصاویر/ دیدار و گفت و گو طلاب حوزه علمیه بناب با حجت الاسلام و المسلمین مسعود عالی

حوزہ/ حجۃ الاسلام و المسلمین عالی نے کہا: امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں کہ چار گناہ ایسے ہیں جو دوسرے گناہوں سے بھی بدتر ہیں، پہلا یہ ہے کہ انسان گناہ پر اصرار کرے اور مسلسل تکرار کرتا رہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام و المسلمین مسعود عالی نے اصفہان میں امام رضا علیہ السلام کی بہن حضرت زینب (س) کے روضہ مبارک میں تقریر کرتے ہوئے ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا اور کہا : شیطان مومنین ، گھر والوں اور رشتہ داروں کے درمیان روابط اور صلہ رحمی کو ختم کرنے کی پوری کشش کرتا ہے، سورہ حجرات میں اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کی جانب اشارہ کیا ہے جن کی وجہ سے آپسی تعلقات ختم ہو جاتے ہیں، ان میں شک، غیبت، جاسوسی اور مذاق اڑانا شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: سوء ظن کی تین قسمیں ہیں جن میں سے ایک خدا کے بارے میں سوء ظن رکھنا ہے، جو خدا سے ہمارے تعلق اور رابطے کو منقطع کر دیتا ہے، دوسری قسم مومن کے بارے میں سوء ظن ہے، جو مومن سے ہمارے تعلقات کو منقطع کر دیتا ہے، اور تیسری قسم اپنےبارے میں سوء ظن رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا: انسان اگر کسی مومن کے عمل کو دیکھتا ہے اور اسے وہ عمل پسند نہیں آتا اس کے با وجود انسان کو چاہئے کہ مومن کے اس فعل کو صحت پر حمل کرے اور اس بات پر بنا رکھے کہ اس مومن کا فعل صحیح تھا، لیکن یہی چیز اپنے بارے میں جاری نہ کرے، اپنے اعمال کے سلسلے میں انسان کو خوش بین نہیں ہونا چاہئے کہ میرے سب اعمال اچھے ہیں۔

حجۃ الاسلام و المسلمین عالی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ احادیث میں بعض چیزیں گناہ سے بھی زیادہ بدتر ہیں، کہا: امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں کہ چار گناہ ایسے ہیں جو دوسرے گناہوں سے بھی بدتر ہیں، پہلا گناہ یہ کہ انسان گناہ پر اصرار کرے اور مسلسل تکرار کرتا رہے۔

انہوں نے مزید کہا:دوسرا: ’’استصغار‘‘ کا مطلب ہے کسی گناہ کو چھوٹا سمجھنا، یعنی انسان گناہ کرتا ہے لیکن اسے چھوٹا سمجھتا ہے اور اس سے توبہ نہیں کرتا ۔ تیسرا : ’’افتخار‘‘ یعنی گناہ کرنے کے بعد اس پر فخر کرنا، یعنی گناہ پر توبہ کے بجائے اس کو اچھا سمجھنا اور اس گناہ پر فخر کرنا۔ چھوتھا: ’’اسفشار‘‘ یعنی گناہ پر خوش ہونا، یعنی گناہ کرنے پر انسان کا خوش ہونا کہ ہم نے گناہ کیا، یہ خود گناہ سے بھی بدتر ہے، یعنی انسان پہلی بات صورت میں یہ کہ توبہ نہیں کرتا اور اس پراس گناہ کی توجیہ بھی کرتا ہے، یہی توجیہ ہے جو اس گناہ سے بھی زیادہ بڑا گناہ ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین عالی نے حضرت آدم و حوا علیہما السلام اور شیطان کے گمراہ کرنے کے واقعے اور جنت سے نکالے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: درگاہ الہی سے نکالے جانے کے فوراً بعد آدم و حوا علیہما السلام نے اپنے عمل کی توجیہ پیش نہیں کی بلکہ اپنی غلطی کا اقرار کیا اور کہا: " رَبَّنا ظَلَمْنا أَنْفُسَنا " خدایا ہم نے اپنے نفس ہر ظلم کیا۔ لیکن جب اللہ نے شیطان کو نکلا تو شیطان نے اپنے عمل کی توجیہ پیش کی اور اپنی غلطی کو خدا کی گردن پر ڈال دیا اور کہا: " رَبِّ بِما أَغْوَیْتَنِی لَأُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْأَرْضِ وَ لَأُغْوِیَنَّهُمْ أَجْمَعِینَ " خدایا تونے مجھے گمراہ کیا، لہذا میں تیرے بندوں کو گمراہ کروں گا۔

انہوں نے مزید کہا: بعض وقت انسان اپنی غلطی کو دوسرے کی گردن پر ڈال دیتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے انسان اپنی ذات سے زیادہ محبت کرتا ہے، اور مغرور ہو جاتا ہے، اور ایسی صورت میں اپنے غلطیوں اور خطاؤں کو دوسروں کی گردن پر ڈال دیتا ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .