حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سرینگر: جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے جنرل سیکریٹری حجۃ الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس موسوی الصفوی نے امام باڑہ یاگی پورہ ماگام میں نماز جمعہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیرت حضرت فاطمہ زہرا ؑ، مقام و منزلت اہل بیت اطہار ؑ، ولایت محمد و آل محمد اور انسانی زندگی میں تقویٰ و پرہیزگاری کی بنیادی اہمیت کو اجاگر کیا۔

آغا سید مجتبیٰ عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ تقویٰ محض ایک مذہبی اصطلاح نہیں بلکہ ایک ایسا جامع اخلاقی و عملی ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے کردار، معاملات اور معاشرتی رویوں کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی دینداری کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی ذمہ داریوں کی ادائیاگی میں بھی خدا خوفی، دیانت داری اور اخلاقی اقدار کو ملحوظ رکھے۔
انہوں نے سورۂ کوثر کی آیات مبارکہ کے تناظر میں حضرت فاطمہ زہرا ؑ کی عظمت و فضیلت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وجود مقدس زہرا ؑ محض ایک عظیم تاریخی و روحانی شخصیت کا نام نہیں بلکہ عالم تخلیق میں ایک غیر معمولی مقام و مرتبے کی حامل ہستی ہیں۔ انہوں نے روایات اہل بیت ؑ کی روشنی میں حضرت فاطمہ زہرا ؑ کے نورانی مقام، ان کی طہارت، صبر، استقامت اور عظیم روحانی مرتبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذات اقدس تمام انسانیت کے لیے ہدایت، معرفت اور بندگی خدا کا روشن نمونہ ہے۔

آغا سید مجتبیٰ عباس نے مزید کہا کہ ولایت محمد و آل محمد محض ایک اعتقادی وابستگی نہیں بلکہ ہدایت الٰہی اور صراط مستقیم تک رسائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ انہوں نے حضرت آدم ؑ اور دیگر انبیائے کرام کے حوالے سے روایات بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ اہل بیت اطہار ؑ کی ولایت اور ان کی معرفت کو اسلامی تعلیمات میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا ؑ کی ذات اقدس، ان کی سیرت اور ان کی تعلیمات سے وابستگی درحقیقت دین کی حقیقی روح سے وابستگی ہے۔
انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا ؑ کے مقام شفاعت اور روز قیامت ان کی عظمت و منزلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم ؐ نے اپنی دختر گرامی کے مقام و مرتبے کو متعدد مواقع پر واضح فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت زہرا ؑ کی سیرت طیبہ خواتین سمیت پوری انسانیت کے لیے عفت، حیا، صبر، ایثار، حق گوئی اور استقامت کا کامل نمونہ ہے، جسے عملی زندگی میں اپنانے کی ضرورت ہے۔

خطاب کے آخری حصے میں آغا سید مجتبیٰ عباس نے معاشرے میں خواتین اور بچوں کی گمشدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور اس حوالے سے عوام میں پائی جانے والی تشویش پر سنجیدہ توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نہایت حساس انسانی اور سماجی مسئلہ ہے، جسے محض اعداد و شمار یا رسمی انتظامی کارروائیوں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ گمشدہ افراد، بالخصوص خواتین اور بچوں کی بازیابی اور ان کے تحفظ کے حوالے سے مؤثر، مربوط اور نتیجہ خیز اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ انتظامی اداروں پر زور دیا کہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور مؤثر حکمت عملی مرتب کی جائے، جس کے تحت پولیس، سول انتظامیہ، سائبر ماہرین اور متعلقہ قومی و ریاستی اداروں پر مشتمل خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے، تاکہ گمشدگی کے واقعات کی بروقت تحقیقات، متاثرہ خاندانوں کی معاونت اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مربوط کوششیں عمل میں لائی جا سکیں۔

انہوں نے مزید تجویز پیش کی کہ خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر ہیلپ لائن نظام قائم کیا جائے، حساس مقامات، بازاروں اور عوامی مقامات پر سی سی ٹی وی نگرانی کا دائرہ وسیع کیا جائے اور جدید ٹیکنالوجی و سائبر مہارتوں کو بروئے کار لاکر گمشدہ افراد کی تلاش اور جرائم کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔
آغا سید مجتبیٰ عباس نے واضح کیا کہ حکومت کی ذمہ داری صرف محصولات کی وصولی اور انتظامی امور کی انجام دہی تک محدود نہیں بلکہ شہریوں کی جان، عزت، سلامتی اور بنیادی حقوق کا تحفظ بھی اس کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا کسی بھی ذمہ دار حکومت کی بنیادی ترجیح ہونی چاہیے اور اس سلسلے میں مزید تاخیر یا غفلت ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ اس مسئلے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے فوری، ٹھوس اور قابل عمل اقدامات اٹھائے جائیں، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تحفظ اور اعتماد کی فضا قائم کی جا سکے۔
خطاب کے اختتام پر آغا سید مجتبیٰ عباس نے امت مسلمہ کی سربلندی، معاشرے کی اصلاح، امن و سلامتی اور تمام انسانیت کی ہدایت و فلاح کے لیے دعا کی۔










آپ کا تبصرہ