ہفتہ 31 اکتوبر 2026 - 18:45
ہمیں ایران سے محبت ہے، جنگ کے خلاف ہیں اور عالمی امن کے لیے بین المذاہب مکالمہ ضروری ہے: قبرص کے مارونی آرچ بشپ

حوزہ/ قبرص کے مارونی آرچ بشپ سلیم صفیر نے ویٹیکن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کا دورہ کرتے ہوئے ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ لبنان کے عوام ایران اور اس کے عوام سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے عالمی امن کے قیام کے لیے بین المذاہب مکالمے اور مذہبی سفارت کاری کو اہم قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قبرص کے مارونی آرچ بشپ سلیم صفیر نے ویٹیکن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کا دورہ کرتے ہوئے ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ لبنان کے عوام ایران اور اس کے عوام سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے عالمی امن کے قیام کے لیے بین المذاہب مکالمے اور مذہبی سفارت کاری کو اہم قرار دیا۔

آرچ بشپ سلیم صفیر نے ایرانی سفیر سے ملاقات میں کہا کہ لبنان کے عوام ایران کے خلاف جاری جنگ سے غمگین ہیں اور ایران کو صہیونی حکومت اور امریکہ کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے دیکھ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ایرانی سفیر سے ملاقات کرکے اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔

ایرانی سفیر نے گفتگو کرتے ہوئے ایران پر امریکہ اور صہیونی حکومت کے حملوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان حملوں میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں، حکومتی عہدیداروں، سائنس دانوں، رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای، عام شہریوں، میناب کی 168 طالبات اور 14 معلمات نے شہادت پائی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اور مسلح افواج اپنی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع کے لیے پُرعزم ہیں اور ان حالات میں قومی اتحاد مزید مضبوط ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حزبِ مقاومت ہر حال میں زندہ رہے گی اور جس طرح سید حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد مقاومت ختم نہیں ہوئی، اسی طرح لبنان کا ہر باشعور شہری مقاومت کا حصہ ہے۔

آرچ بشپ سلیم صفیر نے جنگ کو غلط اور ناقابلِ جواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں امن قائم ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی رہنماؤں کے اتحاد اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے انہوں نے پوپ کو خط بھی لکھا ہے۔ ان کے بقول حکومتیں شاید دنیا میں امن قائم نہ کرسکیں، لیکن دین ہمیشہ امن کا خواہاں ہے اور موجودہ دور میں مذہبی سفارت کاری سیاسی سفارت کاری کا متبادل بن سکتی ہے۔

انہوں نے بین المذاہب مکالمے کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے دورے کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو بیرون ملک درست طور پر نہیں پہچانا گیا، جبکہ ایرانی عوام کے پختہ عقائد کو بھی نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے عالمی امن کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ امن کے قیام کے خواہاں ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha