جمعرات 5 فروری 2026 - 11:06
منجیِ موعود کا انتظار توحیدی مذاہب کے درمیان وحدت کا محور ہے: عیسائی رہنما

حوزہ/ گریور چیفتچیان نے کہا ہے کہ منجیِ موعود کے ظہور کا انتظار تمام توحیدی مذاہب کے درمیان وحدت کا بنیادی محور ہے، اور اس عقیدے سے دوری معاشروں میں سنگین غلطیوں، تنازعات اور بدامنی کا سبب بنتی ہے، جس کی مثالیں آج کی دنیا میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آذربائیجان میں آرمینی عیسائیوں کے آرچ بشپ اور خلیفۂ کل، گریور چیفتچیان نے کہا ہے کہ منجیِ موعود کے ظہور کا انتظار تمام توحیدی مذاہب کے درمیان وحدت کا بنیادی محور ہے، اور اس عقیدے سے دوری معاشروں میں سنگین غلطیوں، تنازعات اور بدامنی کا سبب بنتی ہے، جس کی مثالیں آج کی دنیا میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے حوزہ نیوز سے خصوصی گفتگو میں توحیدی مذاہب میں منجی کے مشترکہ تصور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ معاشروں کو زوال سے بچانے میں عقیدۂ انتظار کا کلیدی کردار ہے۔

آرچ بشپ گریور چیفتچیان نے کہا کہ منجی کے انتظار کا تصور اسلام، یہودیت اور عیسائیت سمیت تمام توحیدی مذاہب میں مشترک ہے۔ اگرچہ دیگر مذاہب میں بھی اس طرح کا تصور پایا جاتا ہے، تاہم وہ زیادہ تر اخلاقی اصولوں پر قائم ہوتے ہیں۔ ایسے معاشرے جن میں منجی کے انتظار کا تصور نہیں ہوتا، وہاں جھگڑے، جنگیں، تصادم اور مختلف روحانی و نفسیاتی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

انہوں نے حکمرانوں سے امید اور خدا سے امید کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے حکمرانوں سے ہماری توقعات، خداوندِ واحد سے ہماری امیدوں سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ حکمران غلطیاں کر سکتے ہیں، لیکن خدا سے جو امید رکھی جاتی ہے وہ بے مثال اور خطا سے پاک ہوتی ہے۔

انہوں نے سیاست پر اس عقیدے کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر توحیدی مذاہب کے پیروکار سیاستدان اس انتظار کے تصور سے دور ہو جائیں تو ان سے مزید سنگین غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ تجربہ اور تاریخ گواہ ہے کہ جب حکمرانوں نے خدا پر کامل ایمان رکھتے ہوئے منجی کے ظہور کے عقیدے کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا، تو انسانی معاشرہ زیادہ متحد اور منظم رہا۔

آخر میں آرچ بشپ نے تمام مذاہب کے پیروکاروں کی بنیادی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم فرض یہ ہے کہ منجی کے ظہور پر ایمان اور امید کو کبھی کمزور نہ ہونے دیا جائے۔ جب ایمان اور امید ختم ہو جاتی ہے تو معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ تمام ادیان کی سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ اپنے ماننے والوں میں ایمان اور امید کو زندہ رکھیں اور آخری دم تک اس کی حفاظت کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha