اتوار 1 نومبر 2026 - 22:53
تنزانیہ کے طلبہ نے کیا لباسِ علم زیبِ تن / دل میں لیے خدمتِ دین کا عزم

حوزہ / تنزانیہ کے شہر تانگا میں واقع حوزہ علمیہ القائم کے متعدد طلبہ نے ابتدائی تعلیمی مرحلہ مکمل کرنے کے بعد دینِ اسلام کی خدمت اور امامِ عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے سپاہی کے عزم کے ساتھ لباسِ روحانیت زیبِ تن کر لیا۔ یہ دینی مرکز بلال مسلم مشن تنزانیہ کے زیرِ نگرانی، اس کی تانگا شاخ کے تحت سرگرمِ عمل ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ روز 31 اکتوبر 2026ء کو بلال مسلم مشن تنزانیہ کے زیرِ نگرانی چودھویں سالانہ تقریبِ فارغ التحصیلی منعقد ہوئی۔ اس موقع پر جن طلبہ نے حوزوی تعلیمات کا ابتدائی کورس مکمل کیا تھا، انہیں اس اہم علمی اور دینی مرحلے کی تکمیل کی علامت کے طور پر لباسِ روحانیت پہنایا گیا اور ان کی دستار بندی کی گئی۔

ان طلبہ کی دستار بندی دین اور معاشرے کی خدمت کے سفر میں ایک نئے مرحلے کے آغاز کی علامت ہے؛ ایسا مرحلہ جس میں ان کے کندھوں پر دینی معارف کی ترویج، اسلامی اقدار و اخلاق کی حفاظت اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اہلِ ایمان کی رہنمائی جیسی اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔

تنزانیہ کے طلبہ نے کیا لباسِ علم زیبِ تن / دل میں لیے خدمتِ دین کا عزم

تنزانیہ کے شیعہ بزرگ عالم دین "شیخ جلالہ" نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فارغ التحصیل طلبہ کو اس علمی اور معنوی کامیابی پر مبارک باد پیش کی اور انہیں پانچ بنیادی اصولوں کی پابندی کی تاکید کی۔ انہوں نے ان اصولوں کو ہر دینی عالم اور طالبِ علم کی روزمرہ زندگی کی اہم ترین خصوصیات میں شمار کیا۔ یہ پانچ اصول درج ذیل ہیں:

1. نماز کو اول وقت میں ادا کرنا

2. نمازِ شب کا خصوصی اہتمام کرنا

3. قرآن کریم کی مسلسل تلاوت کرنا

4. حسنِ اخلاق سے آراستہ ہونا

5. گفتار و کردار میں صداقت اور امانت داری کی پابندی کرنا

تنزانیہ کے طلبہ نے کیا لباسِ علم زیبِ تن / دل میں لیے خدمتِ دین کا عزم

انہوں نے کہا: یہ اصول ان اہم بنیادوں میں شامل ہیں جو ایک دینی عالم کی روحانی، اخلاقی اور عملی شخصیت کی صحیح تربیت میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

شیخ جلالہ نے مزید کہا: علمِ دین محض معلومات اور نظری مباحث تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے اثرات انسان کے عمل، کردار اور دوسروں کے ساتھ اس کے برتاؤ میں بھی نمایاں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو یاد دلایا کہ ایک دینی عالم کی ذمہ داری صرف علم حاصل کرنے اور دینی معارف سیکھنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اپنے علم پر عمل کرنا، اسے دوسروں تک پہنچانا اور معاشرے میں ایک قابلِ تقلید نمونہ پیش کرنا بھی اس کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

تنزانیہ کے طلبہ نے کیا لباسِ علم زیبِ تن / دل میں لیے خدمتِ دین کا عزم

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha