پیر 9 نومبر 2026 - 01:50
ہندوستان سے پاکستان تک علم و تبلیغ کا روشن سفر؛ علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ

ہندوستان سے پاکستان تک علم و تبلیغ کا روشن سفر؛ علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ

منبر و محراب سے میدانِ عمل تک، ایک صاحبِ علم و کردار عالمِ دین کی زندگی کے چند روشن گوشے

حوزہ/ علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ ان ممتاز علمائے دین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں منبر و محراب کے ذریعے معارفِ اہلِ بیتؑ کی ترویج، تبلیغِ دین اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ علمی بصیرت، استدلالی خطابت، حق گوئی اور اصول پسندی ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے۔ 7 نومبر 1980ء کو لاہور میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

تحریر: سید نثار علی ترمذی

حوزہ نیوز ایجنسی | برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی علم و عمل، تقویٰ و پرہیزگاری، حق گوئی اور استقامت کی روشن مثال ہوتی ہے۔ علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ بھی انہی ممتاز شخصیات میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی تبلیغِ دین، ترویجِ معارفِ اہلِ بیتؑ اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے وقف کر دی۔ آپ کی مجالس علمی گہرائی، تحقیقی بصیرت اور استدلالی انداز کے باعث ممتاز تھیں، جب کہ آپ کی ذاتی زندگی سادگی، متانت، بے نیازی اور اصول پسندی کا نمونہ تھی۔ ہندوستان کے شہر بریلی سے لے کر لاہور کے علمی و دینی حلقوں تک آپ نے اپنی علمی و تبلیغی خدمات کے ذریعے ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ امام خمینیؒ اور انقلابِ اسلامی کی حمایت میں اپنے موقف پر ثابت قدم رہنے والے اس عالمِ دین کو 3 نومبر 1980ء کو قاتلانہ حملے میں شدید زخمی کیا گیا، جس کے نتیجے میں 7 نومبر 1980ء، شبِ جمعہ، آپ نے جامِ شہادت نوش کیا۔

ہندوستان سے پاکستان تک علم و تبلیغ کا روشن سفر؛ علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ

ولادت اور خاندانی پس منظر

مولانا سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ 1908ء میں میمن سادات، ضلع بجنور، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلۂ نسب امام زین العابدین علیہ السلام کے فرزند حضرت زید شہیدؒ سے جا ملتا ہے۔

آپ کے والدِ بزرگوار حکیم مولوی سید محمد زیدی مرحوم تھے، جنہیں امامتِ جمعہ و جماعت کی اجازت بھی حاصل تھی۔ آپ کا خاندان حکمت و طبابت کے حوالے سے علاقے میں معروف تھا اور اسی نسبت سے حکیم خاندان کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔

تعلیم و تربیت

آپ نے ابتدائی اور دینی تعلیم کا بیشتر حصہ مدرسہ منصبیہ، میرٹھ میں حاصل کیا۔ آپ کے اساتذہ میں مجتہد علامہ یوسف حسین امروہوی مرحوم کو خصوصی مقام حاصل تھا۔ انہوں نے ہی آپ کو امامتِ جمعہ و جماعت کی اجازت عطا فرمائی۔ دینی تعلیم کے ساتھ آپ نے عصری تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور یوپی بورڈ سے ادیب فاضل کی سند حاصل کی۔

ازدواجی زندگی

آپ کی شادی اٹھارہ سال کی عمر میں سید احسان حسین مرحوم کی اکلوتی صاحب زادی سے ہوئی۔ ازدواجی زندگی کے بعد بھی آپ نے اپنی علمی و دینی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا اور مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیں۔

عملی زندگی اور تبلیغِ دین کا آغاز

تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ کچھ عرصے تک دہلی میں افغانستان کے سفارت خانے میں مترجم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد دہلی ہی کے ایک اسکول میں تدریسی فرائض بھی انجام دیے، لیکن ملازمت کی پابندیاں آپ کے مزاج سے ہم آہنگ نہ تھیں، چنانچہ آپ نے ملازمت ترک کرکے اپنے وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا۔

مجالسِ عزا سے آپ کا تعلق بھی ایک دلچسپ واقعے سے شروع ہوا۔ ایک مرتبہ آپ کے علاقے میں مجلس کے لیے مدعو کیے گئے ذاکر مقررہ وقت پر نہ پہنچ سکے۔ حاضرین نے آپ سے منبر پر آنے اور مجلس پڑھنے کی درخواست کی۔ لوگوں کے اصرار پر آپ پہلی مرتبہ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اپنی زندگی کی پہلی مجلس سے خطاب کیا۔ یہی واقعہ آپ کی مستقل تبلیغی و خطیبانہ زندگی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔ اس کے بعد مجالسِ اہلِ بیتؑ سے خطاب کا سلسلہ زندگی بھر جاری رہا۔

ہندوستان سے پاکستان تک علم و تبلیغ کا روشن سفر؛ علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ

بریلی میں قیام اور علمی و تبلیغی خدمات

ایک مرتبہ آپ سہارن پور میں مجلس پڑھنے کے لیے تشریف لے گئے۔ وہاں آپ کی ملاقات بریلی کے ایک بزرگ کربلائی حسین سے ہوئی، جنہوں نے آپ کو بریلی میں پیش نماز کے فرائض انجام دینے کی دعوت دی۔ آپ نے اس دعوت کو قبول کر لیا اور 1934ء میں اہل و عیال کے ہمراہ بریلی منتقل ہوگئے۔

بریلی میں آپ نے تقریباً بائیس سال نہایت وقار اور عزت کے ساتھ گزارے۔ اس دوران آپ کی علمی، دینی اور تبلیغی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ آپ کی مجالس میں صرف ایک مسلک کے افراد ہی نہیں بلکہ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شریک ہوتے تھے۔ آپ کی علمی گفتگو، متانت اور اندازِ بیان نے ہر طبقے کے اہلِ علم و دانش کو متاثر کیا۔

تحریکِ پاکستان کی حمایت اور قائداعظم سے ملاقات

1945ء کے بعد برصغیر کے مسلمانوں میں مسلم لیگ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور قیامِ پاکستان کا مطالبہ زور پکڑنے لگا تو آپ نے بھی مسلم لیگ اور مطالبۂ پاکستان کی بھرپور حمایت شروع کر دی۔

اسی زمانے میں قائداعظم محمد علی جناح جب بریلی تشریف لائے تو آپ کی جانب سے تحریر کردہ سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔ یہ واقعہ آپ کی سیاسی و ملی دلچسپی اور تحریکِ پاکستان کے حوالے سے آپ کے موقف کی عکاسی کرتا ہے۔

ہندوستان سے پاکستان تک علم و تبلیغ کا روشن سفر؛ علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ

پاکستان ہجرت اور جامع مسجد صاحب الزمان میں خدمات

1956ء میں آپ مستقل طور پر پاکستان تشریف لے آئے۔ 1957ء میں ماہِ رمضان المبارک سے لاہور کی شیعہ جامع مسجد، جو اب مرکزی جامع مسجد صاحب الزمان، حیدر روڈ، اسلام پورہ (کرشن نگر) کے نام سے معروف ہے، میں امامتِ جمعہ و جماعت کے فرائض انجام دینا شروع کیے اور تادمِ شہادت اسی منصب پر فائز رہے۔

لاہور کے اہلِ علم اور عام مومنین جلد ہی آپ کے علم و فضل، تقویٰ، پرہیزگاری اور متانت کے گرویدہ ہوگئے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی گروہ بندی اور ہر قسم کی سیاست سے الگ رہ کر گزاری۔ آپ کا امتیازی وصف یہ تھا کہ کسی بھی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے نہایت واضح، دوٹوک اور فیصلہ کن انداز اختیار کرتے تھے۔ پیچیدہ اور الجھی ہوئی باتوں کے بجائے صاف اور مدلل گفتگو کو ترجیح دیتے تھے۔

مجالسِ عزا؛ علمیت، استدلال اور مطالعے کی گہرائی

آپ کی مجالس محض خطابت اور جذباتی اندازِ بیان تک محدود نہیں ہوتی تھیں بلکہ ان میں علمی استدلال، تحقیقی نکات اور گہرے مطالعے کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ آپ کی مجالس میں آیاتِ قرآنیہ، احادیث اور معارفِ اہلِ بیتؑ کو ایسے علمی انداز میں پیش کیا جاتا کہ اہلِ علم و فضل بھی ان سے استفادہ کرتے تھے۔

معروف عالم و خطیب علامہ طالب جوہری مرحوم نے آپ کی مجالس کے حوالے سے اپنا ایک یادگار تاثر قلم بند کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

"یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں حوزہ علمیہ نجف اشرف کا طالب علم تھا اور گاہ گاہ ایامِ عزا کی تعطیلات میں پاکستان آیا کرتا تھا۔ حسنِ اتفاق سے ایک سال مجھے لاہور میں محرم الحرام کے عشرۂ اولیٰ میں قیام کا موقع ملا اور مختلف مجالس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔

غالباً محرم کی چوتھی یا پانچویں تاریخ تھی، جب میرے میزبان مجھے ایک ایسی مجلس میں لے گئے جس کے بظاہر حالات سے اندازہ ہوتا تھا کہ دوسری مجالس کی نسبت یہاں فضلاء و دانشوروں کا اجتماع زیادہ ہے۔ ایک ایسے بزرگ رونق افروزِ منبر تھے جن پر لباسِ علم پوری طرح سج رہا تھا۔ جلد ہی کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان اور لہجے کی شیرینی نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا۔

مجلس میں خطابت کا عنصر کم تھا، لیکن علمیت کا تناسب بہت زیادہ تھا۔ گفتگو مدلل تھی اور اس آیت کے موضوع پر تھی جس پر ایک ہزار سال سے گفتگو ہو رہی ہے اور جسے صاحبانِ علم آیۂ تطہیر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ آیۂ مبارکہ جسے منبر سے بہت زیادہ پڑھا جا چکا ہو، اس میں نئے نکات پیدا کرنا بہت دشوار ہوتا ہے، لیکن میں نے محسوس کیا کہ صاحبِ ذکر نے بعض ایسے نکات اور اچھوتے مطالب پیش کیے جو اس سے قبل سامعین کے لیے ناآشنا تھے اور جن سے انتہائی گہرے اور وسیع مطالعے کا اظہار ہو رہا تھا۔

یہ میرا پہلا تعارف تھا حضرت مولانا سید محمد جعفر زیدی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے۔"

علامہ طالب جوہری کا یہ تاثر آپ کی علمی شخصیت، تحقیقی ذوق اور مجالس کے منفرد اندازِ بیان کا ایک معتبر گواہ ہے۔

ہندوستان سے پاکستان تک علم و تبلیغ کا روشن سفر؛ علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ

علمی و قلمی خدمات

آپ صرف صاحبِ منبر ہی نہیں بلکہ صاحبِ قلم بھی تھے۔ آپ تاحیات ماہنامہ پیامِ عمل اور درسِ عمل کے سرپرست رہے اور ان رسائل کے لیے علمی و تحقیقی مضامین تحریر کرتے رہے۔ آپ کے مضامین کے مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔

آپ کے علمی ذوق اور دینی بصیرت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آپ نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا اور دینی و اعتقادی مسائل پر مدلل انداز میں اظہارِ خیال کیا۔

مولانا وحید کاظمی صاحب کے مطابق آپ ایک نہایت علمی شخصیت تھے۔ انہوں نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ آپ نے 1974ء کی تحریکِ ختمِ نبوت میں حصہ لیا۔ علامہ سید امداد حسین کاظمی المشہدی مرحوم کے بعد آپ کے استفتاءات ماہنامہ المعارف میں شائع ہوتے رہے۔

ردِ قادیانیت کے موضوع پر آپ نے مرزائی تزویر دربارۂ آیتِ تطہیر کے عنوان سے ایک رسالہ بھی تحریر کیا۔

ہندوستان سے پاکستان تک علم و تبلیغ کا روشن سفر؛ علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ

حج کی سعادت اور والدہ کا انتقال

1973ء میں آپ نے اپنی والدہ کے ہمراہ حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ 1974ء میں آپ کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات پر کسی نے ایک تاریخ کہی، جو آپ کو بہت پسند تھی:

خیرالنساء کے پاس قدیرالنساء ہے آج

یہ مصرع آپ کے ادبی ذوق اور تاریخ گوئی سے دلچسپی کی ایک مثال بھی ہے۔

شعر و ادب سے شغف

آپ کی علمی و خطیبانہ صلاحیتوں سے تو اہلِ علم و ادب واقف تھے، لیکن آپ شعر فہمی اور شعر گوئی کا بھی اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ مختلف شعرا اپنا کلام اصلاح اور تصحیح کے لیے آپ کی خدمت میں پیش کرتے تھے۔ آپ نہ صرف ان کے کلام کی اصلاح فرماتے بلکہ موقع و محل کے مطابق اپنے اشعار بھی شامل کر دیتے تھے۔

ایک مرتبہ ڈاکٹر مسعود رضا خاکی مرحوم نے اپنا کلام اصلاح کے لیے پیش کیا تو آپ نے اس میں اپنا یہ شعر شامل فرمایا:

دعویٰ نہیں ولا پر بیزار ہیں بہت

اعدائے فاطمہؑ سے محبانِ فاطمہؑ

امام مہدی علیہ السلام کی بارگاہ میں آپ کا یہ شعر بھی آپ کے عقیدت مندانہ جذبات کی عکاسی کرتا ہے:

اے حجتِ الٰہ! بس اب آ بھی جائیے

لے کر جلو میں نورِ گلستانِ فاطمہؑ

شیعہ جامع مسجد کی پیشانی پر بھی آپ کے یہ اشعار کندہ ہیں:

بنائی قوم نے ممتاز مسجدِ جامع

رہے گا فردِ جزا پر ہر اک کا نام مدام

سرِ ورق پر لکھا کاتبانِ قدرت نے

حبیبِ قوم محمد علی حبیب کا نام

اپنے فرزند کے اصرار پر آپ نے امام حسن علیہ السلام کی شبیہِ تابوت کے لیے نوحہ بھی تحریر فرمایا، جس کے چند مصرعے یہ ہیں:

شیعو! چلو اٹھاؤ جنازہ امام کا

زہرا کے نورِ عین کا، اپنے امام کا

چل کر بتاؤ ہاتھ شہِ تشنہ کام کا

عباس فرطِ غیظ سے تھرائے جاتے ہیں

تیروں سے چھلنی ہو گیا لاشہ امام کا

افسوس کہ آپ کا بیشتر شعری سرمایہ محفوظ نہ رہ سکا اور آپ کا کلام بڑی حد تک زمانے کی نذر ہوگیا۔

اصول پسندی اور حکومتی پیش کش سے انکار

آپ کی اصول پسندی اور حق گوئی کا ایک واقعہ آپ کی صاحب زادی نے بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق ایک روز چند افراد آپ کے گھر تشریف لائے، جنہوں نے کالی ویسٹ کوٹ اور شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حکومت کی جانب سے آئے تھے اور آپ کو جنرل ضیاء الحق کی شوریٰ میں شمولیت کے لیے آمادہ کرنا چاہتے تھے۔

تاہم آپ نے ان کی پیش کش قبول کرنے سے انکار کر دیا اور واضح الفاظ میں فرمایا کہ میں آپ لوگوں کی حمایت نہیں کر سکتا، اس لیے میرے لیے اس شوریٰ میں شامل ہونا ممکن نہیں۔

یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آپ نے اپنے اصولوں اور دینی موقف کو ہمیشہ ذاتی مفادات اور حکومتی عہدوں پر ترجیح دی۔

ہندوستان سے پاکستان تک علم و تبلیغ کا روشن سفر؛ علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ

امام خمینیؒ اور انقلابِ اسلامی کی حمایت

امام خمینیؒ اور انقلابِ اسلامی سے آپ کی وابستگی اور حمایت بھی آپ کی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔ آپ امام خمینیؒ کو نائبِ امام سمجھتے تھے اور ان کی حمایت کو اپنا دینی فریضہ قرار دیتے تھے۔ انقلابِ اسلامی کا پیغام پہنچانے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور اس کے حق میں دعائیں کرتے تھے۔

آپ کے قاتلانہ حملے سے تقریباً پندرہ روز قبل کا ایک واقعہ بھی اس سلسلے میں قابلِ ذکر ہے۔ ایک روز آپ نمازِ ظہرین کے لیے تیار ہوکر اپنے نئے گھر "الفانوس" سے نکلنے لگے تو دروازے کے قریب ایک تہ کیا ہوا خط پڑا ملا۔ یہ ایک گمنام خط تھا، جس میں لکھا تھا کہ خط لکھنے والا ایک حساس ادارے میں کام کرتا ہے اور آپ کو خبردار کرنا چاہتا ہے کہ آپ مسجد میں امام خمینیؒ اور انقلابِ اسلامی کی حمایت میں گفتگو کرتے ہیں اور ان کی کامیابی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ خط میں مزید تنبیہ کی گئی تھی کہ آپ اس طرزِ عمل سے اجتناب کریں، ورنہ آپ کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

آپ نے خط پڑھ کر اپنے تکیے پر رکھ دیا اور فرمایا:

"امام خمینی نائبِ امام ہیں اور میں ان کی حمایت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔"

اس کے بعد آپ حسبِ معمول نماز پڑھانے کے لیے مسجد روانہ ہوگئے۔

یہ واقعہ آپ کی جرأت، ثابت قدمی اور اپنے دینی موقف سے وابستگی کا اندازہ پیش کرتا ہے۔

جنگِ ستمبر 1965ء کے حوالے سے ایک خواب اور اس کی تعبیر

علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ کے حالاتِ زندگی کا ایک اہم پہلو جنگِ ستمبر 1965ء کے حوالے سے ان کے وہ تاثرات ہیں جو روزنامہ نوائے وقت لاہور نے 9 جنوری 1966ء کی اشاعت میں دیگر شخصیات کے تاثرات کے ساتھ شائع کیے تھے۔

اخبار میں آپ کا تعارف لاہور کی سب سے بڑی شیعہ مسجد، جامع مسجد شیعہ، کرشن نگر کے خطیب مولانا سید محمد جعفر کے طور پر کرایا گیا ہے۔ آپ نے جنگ کے حوالے سے اپنا ایک خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا:

"5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب کو میں نے ایک عجیب خواب دیکھا کہ میں اور میرا خاندان، علاوہ ازیں ہزارہا مسلمان ایک بحری جہاز میں بیٹھے ہیں اور جہاز پانی کی سطح پر چلنے کی بجائے پانی کی تہ کے اندر چل رہا ہے۔ سمندر میں طوفان اٹھ رہا ہے اور اناؤنسر کسی جگہ سے اعلان کر رہا ہے کہ اس وقت ہمارے سروں پر پانی کا پہاڑوں سے بھی زیادہ بوجھ ہے۔ ساتھ ہی یہ کہا جا رہا ہے کہ بہرحال ہمیں ان سختیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ مشکلات و مصائب کا یہ طوفان سولہ یا سترہ دنوں تک جاری رہے گا اور پھر جہاز بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ جائے گا۔"

مولانا نے توقف کے بعد فرمایا کہ جب صبح آنکھ کھلی تو خواب میں حج کرنے کا خیال غالب تھا، اس لیے انہوں نے اس کی تعبیر یہی سمجھی کہ خداوند کریم انہیں اور دیگر مسلمانوں کو حج کی سعادت نصیب فرمائے گا۔ تاہم جب ہندوستان کے حملے کی خبر سنی تو فوراً ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ ممکن ہے یہ خواب اسی جنگ کے بارے میں ہو۔

آپ نے مزید فرمایا کہ انہوں نے اپنے حلقۂ احباب اور مسجد میں آنے والے متعدد افراد کو اس خواب کے بارے میں بتایا اور کہا کہ خواب کے مطابق جنگ سولہ سترہ دنوں کے بعد ہماری فتح و کامیابی کے ساتھ ختم ہوگی۔ چنانچہ 22 اور 23 ستمبر کی درمیانی شب جنگ بندی ہوئی تو جن لوگوں کو آپ نے خواب سنایا تھا، انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا خواب بالکل درست ثابت ہوا۔

آپ کے مطابق اس زمانے میں بعض لوگ خوف و ہراس کے باعث اپنے علاقوں سے دور دراز مقامات کی طرف منتقل ہونے کا سوچ رہے تھے، لیکن آپ کے خواب اور حوصلہ افزائی نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ آپ نے مسجد میں متعدد مرتبہ تقاریر کیں اور بالخصوص ہر جمعہ کو جہاد کے فضائل بیان کرنے کے ساتھ لوگوں کو حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ وطن کے دفاع کی ترغیب دی۔ اس کے علاوہ دفاعی فنڈ میں زیادہ سے زیادہ رقوم جمع کرانے کی بھی اپیل کرتے رہے۔

شہادت سے قبل کا واقعہ اور قاتلانہ حملہ

3 نومبر 1980ء کا دن آپ کی زندگی کا آخری تبلیغی و دینی دن ثابت ہوا۔ اس روز آپ نے مسجد میں نمازِ مغربین پڑھائی۔ اسی مقام پر محفلِ عیدِ مباہلہ میں فضائلِ اہلِ بیتؑ بیان فرمائے۔ بعد ازاں ایک شخص کے گھر نیاز تناول فرمائی اور اپنے گھر واپس تشریف لے آئے۔

آپ ابھی گھر میں داخل ہی ہوئے تھے کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ آپ فوراً واپس آئے اور دروازہ کھولا۔ اسی دوران ایک ظالم شخص نے تیشے سے آپ کے سر پر وار کیا، جس کے نتیجے میں آپ شدید زخمی ہوکر خون میں نہا گئے۔

آپ کو فوری طور پر میو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد ازاں جنرل ہسپتال شفٹ کر دیا گیا۔ تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 7 نومبر 1980ء، بروز شبِ جمعہ، آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

آپ کی شہادت پر ڈاکٹر مسعود رضا خاکی مرحوم نے یہ شعر کہا:

عمر بھر کرتے رہے آلِ عبا کا تذکرہ

سرخ رو ہو کر گئے جعفر خدا کے سامنے

ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں آپ کو کربلا گامے شاہ، لاہور میں سپردِ خاک کیا گیا۔

شہادت کے اسباب کے حوالے سے ایک روایت

آپ کی شہادت کے اسباب کے بارے میں مختلف باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ کسی مقام پر منکرینِ زکوٰۃ کے حوالے سے علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کا ذکر کیا جا رہا تھا۔ وہاں موجود ایک شخص، جو پیشے کے اعتبار سے ترکھان تھا، نے مفتی جعفر حسین مرحوم کے بجائے آپ کو مخاطب سمجھ لیا اور اپنے تیشے سے آپ پر شدید حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں آپ زخمی ہوئے اور بعد ازاں شہید ہوگئے۔

اس روایت کے مطابق آپ اپنے قائد کی جگہ نشانہ بنے اور یوں شہیدِ فقہِ جعفریہ قرار پائے۔ تاہم آپ کی شہادت کے اسباب کے حوالے سے دیگر روایات اور باتیں بھی بیان کی جاتی ہیں، جن کا ذکر مختلف حلقوں میں ملتا ہے۔

ذاتی مشاہدات اور اہلِ علم کی گواہیاں

آپ کی شخصیت اور طرزِ زندگی کے حوالے سے تحریر نگار کے اپنے مشاہدات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ راقم کو آپ کی اقتدا میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی سعادت حاصل رہی۔ آپ کے جنازے اور مجلسِ سوئم میں شرکت کا موقع بھی ملا، جب کہ مختلف مقامات پر آپ کی مجالس میں حاضر رہنے کا شرف بھی حاصل رہا۔

آپ اپنی عادات و اطوار، علم و ادب، متانت اور سادگی کے اعتبار سے بزرگ علما کی حقیقی تصویر تھے۔

برادرِ بزرگ سید امجد علی کاظمی ایڈووکیٹ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ نمازِ مغربین میں شریک ہوئے۔ نماز کے بعد شہیدؒ نے انہیں مخاطب کرکے فرمایا کہ ایک مجلس پڑھنی ہے، میرے ساتھ چلیے۔ مسجد کے قریب ہی ایک بیٹھک میں صفِ عزا بچھی ہوئی تھی اور بانیِ مجلس بھی موجود تھے۔ شہیدؒ کرسی پر تشریف فرما ہوئے، جب کہ سامنے کاظمی صاحب اور بانیِ مجلس بیٹھ گئے۔ آپ نے وہاں مکمل مجلس سے خطاب فرمایا۔

سید امجد علی کاظمی اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے حیرت کا اظہار کرتے تھے کہ آپ نے انتہائی سادگی اور بے تکلفی کے ساتھ پوری مجلس پڑھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ مجلس کو محض رسمی سرگرمی نہیں بلکہ اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے تھے اور جہاں ضرورت ہوتی، بلا تکلف اپنا فرض ادا کرتے تھے۔

برادر حسن رضا نقوی کے مطابق آپ ہر شخص کی بات پوری توجہ سے سنتے اور اس کا مکمل جواب دیتے تھے۔ جواب دیتے وقت آپ اپنی نگاہیں جھکا لیتے تھے، جو آپ کی عاجزی، متانت اور اخلاقی تربیت کا مظہر تھا۔

آپ آیت اللہ العظمیٰ ابوالحسن اصفہانی مرحوم کے مقلد تھے۔ امام خمینیؒ کے بارے میں آپ کا کہنا تھا کہ ان کے فتووں میں وسعت اور گہرائی پائی جاتی ہے۔ انقلابِ اسلامی کا پیغام پہنچانے والوں کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے تھے۔

ہندوستان سے پاکستان تک علم و تبلیغ کا روشن سفر؛ علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ

اولاد

علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ کے ہاں بیٹیوں کے علاوہ ایک فرزند ڈاکٹر سید نصیر عالم زیدی ہیں، جو ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی اسناد کے حامل ہیں۔

اختتامیہ

علامہ سید محمد جعفر زیدی شہیدؒ کی زندگی علم، عمل، تقویٰ، حق گوئی، علمی استدلال اور دینی بصیرت سے عبارت تھی۔ آپ نے منبر و محراب کو اپنی زندگی کا مرکز بنایا اور اپنی علمی و تبلیغی صلاحیتوں کو معارفِ اہلِ بیتؑ کی ترویج کے لیے وقف کیے رکھا۔ آپ کی مجالس میں علمیت اور تحقیق کا جو معیار دکھائی دیتا تھا، وہ آپ کے وسیع مطالعے اور فکری گہرائی کا ثبوت تھا۔

آپ نے ہندوستان میں تقریباً بائیس سال اور پاکستان میں اپنی زندگی کے آخری برسوں کے دوران دینی خدمات انجام دیں۔ نہ حکومتی مناصب کی پیش کش آپ کے اصولوں کو بدل سکی اور نہ دھمکیاں آپ کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹا سکیں۔ آپ نے اپنے عقیدے، دینی وابستگی اور اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

آپ کی علمی، قلمی، تبلیغی اور ادبی خدمات تاریخِ تشیع کا ایک قابلِ قدر سرمایہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ کی تحریروں، مجالس، اشعار اور علمی آثار کو جمع کرکے محفوظ کیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں اس صاحبِ علم و عمل شخصیت کے افکار و خدمات سے مستفید ہوسکیں۔

نوٹ: اس مضمون میں شامل معلومات آپ کے مجموعۂ مجالس، جلد اول سے اخذ کی گئی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha