۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
گگوئی

حوزہ/گگوئی کی نامزدگی سے عدالت کی آزادی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ مودی حکومت نے عدلیہ کی آزادی کی اہمیت کو کم کیا ہے اور عدلیہ اور مقننہ کی علیحدگی کو متاثر کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ممبئی: سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا میں صدر جمہوریہ کی جانب سے رکن پارلیمان مقرر کیے جانے پر مہاراشٹر سماجوادی پارٹی کے لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے اسے جمہوری قدروں کی پامالی قرار دیا اور کہا کہ سبکدوشی کے محض 4 ماہ کے بعد ہی رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا کا رکن مقرر کرنا حیرت انگیز ہے، مودی سرکار پر سخت تنقید کرتے ہوئے ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ مودی سرکار نے آزادی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک غلط مثال قائم کی ہے جس میں اس نے ایک چیف جسٹس کو راجیہ سبھا بھیجا ہے یہ خلاف جمہوریت بھی ہے۔

کیونکہ جسٹس گگوئی متنازع تھے ان پر دست درازی جیسے سنگین الزام بھی لگ چکے ہیں اس کے باوجود بھی انہیں چیف جسٹس آف انڈیا بنایا گیا تھا، اس کے بعد انہوں نے مودی سرکار کے اشارے پر کئی فیصلہ دیئے جس میں خاص طور پر ایودھیا قضیہ، رافیل معاملہ شامل ہے، ان کی راجیہ سبھا میں تقرری انتہائی افسوسناک ہے، مودی سرکار نے عدلیہ کی ایمانداری اور غیرتمندی اور عوام کے اعتماد کو اس فیصلہ سے متزلزل کیا ہے یعنی گگوئی کو سرکار نے ایک طرح سے انعام دیا ہے۔

امت شاہ کے لئے خطرہ بننے والے لوہیا کی پر اسرار موت کے بعد ججوں میں جو پیغام گیا ہے اس سے بھی سب واقف ہیں اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ گگوئی کو انعام اور لوہیا کو سزا، یہ خطرناک پیغام بھی دینے کی کوشش کی گئی ہے، یہ جمہوریت کے منافی دستور کی بقا اور عدلیہ کے وجود کے لئے خطرہ ہے اور عدلیہ پر حملہ کے مترادف ہے اس سے آئندہ عدلیہ کی ایمانداری پر سوالیہ نشان پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

مودی سرکار اپنے اقتدار کا غلط استعمال کر رہی ہے ججوں کو لالچ اور دھمکیاں دے کر جمہوریت کا قتل کیا جا رہا ہے جو کہ جمہوری قدروں کے منافی ہے اس لئے عدلیہ کی عزت، وقار، منصب و آزادی کا تقاضہ ہے کہ سبکدوشی کے پانچ سال تک ججوں کی کسی بھی سرکاری ادارہ میں نمائندگی پر پابندی عائد کی جائے اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لئے قدم اٹھائے جائیں۔

اطلاعات کے مطابقم مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی ایم) نے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا کا رکن نامزد کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے صدر سے گگوئی کی نامزدگی رد کرنے کی اپیل کی۔ پارٹی پولٹ بیورو نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ گگوئی کی نامزدگی سے عدالت کی آزادی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ مودی حکومت نے عدلیہ کی آزادی کی اہمیت کو کم کیا ہے اور عدلیہ اور مقننہ کی علیحدگی کو متاثر کیا ہے۔

مارکسی کمیونسٹ پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ گگوئی نے ملک کے ججوں کو ریٹائر ہونے کے بعد عہدے دیئے جانے کی خود تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ عدالت کے چہرے پر یہ ایک داغ ہے لیکن وہ خود راجیہ سبھا کے رکن نامزد کیے گئے۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی نے کہا ہے کہ عدالت نے مندر-مسجد سے لے کر کشمیر اور سی اے اے کے بارے میں جس طرح کے فیصلے سنائے ہیں اس سے گگوئی کی نامزدگی کے سلسلے میں سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس لئے ہم صدر رام ناتھ کووند سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ گگوئی کی نامزدگی کو رد کر دیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .