۲۴ خرداد ۱۴۰۳ |۶ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 13, 2024
حزب اللہ کی جوابی کاروائی

حوزہ/ حزب اللہ لبنان نے کہا ہے کہ لبنان کے دو سابق وزراء پر امریکہ کی مجرمانہ پابندی، ہمارے دوستوں اور ان تمام لوگوں کے لئے فخر کی بات ہے جن پر امریکی حکومت مقاومت و مزاحمت کرنے یا مقاومت کی حمایت کرنے کا الزام لگاتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان نے سابق لبنانی وزراء علی حسن خلیل اور یوسف فنیانوس پر امریکہ کی جانب سے پابندی عائد کیے جانے کے خلاف ایک بیان میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مجرمانہ فیصلہ ہمارے دوستوں اور ان تمام لوگوں کے لئے اعزاز اور فخر کی بات ہے جن پر امریکی حکومت نے مزاحمت کرنے یا مزاحمت کی حمایت کرنے کا الزام لگایا ہے۔

حزب اللہ لبنان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت ایک دہشت گرد حکومت ہے جو پوری دنیا میں تباہی و بربادی کا باعث ہے اور لبنان میں بھی صیہونی اور تکفیری دہشت گردوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ معزز شخصیات کو دہشت گرد قرار دے ، امریکہ کی جانب سے صادر ہونے والی تمام چیزیں قابل مذمت اور غیر قانونی ہیں۔

حزب اللہ نے مزید کہا کہ امریکی پابندیوں کی پالیسی لبنان میں اپنے مقاصد کو کبھی حاصل نہیں کرسکے گی اور کبھی بھی لبنانیون کو اپنے قومی حقوق سے دستبردار اور محروم نہیں کر پائے گی۔ اس اقدام سے لبنانی آزادانہ فیصلہ سازی ، قومی وقار اور ملک کی مکمل خودمختاری پر انحصار بڑھے گا ، اور امل تحریک اور المردہ تنظیم کے سربراہان کا موقف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔

حزب اللہ نے مل کر جد و جہد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے پر تاکید کرتے ہوئے باقی لبنانیون کے ساتھ کھڑے ہوکر لبنان کی آزادی اور وقار کے دفاع کے لئے ایک مضبوط قلعے کی مانند مقابلہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

یاد رہے کہ امریکہ نے مزاحمت و مقاومت کی حمایت کرنے کے الزام میں دو لبنانی سیاسی شخصیات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .