۹ آذر ۱۳۹۹ | Nov 29, 2020
مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا

حوزہ/ صوبائی سربراہ علامہ وحید عباس کاظمی نے جامعہ شہید عارف حسین الحسینی پشاور میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کوہاٹ دھرنے کی حمایت کی اور مطالبہ کیا کہ کلایہ میں بزرگ ہستی سید میر انور بادشاہ، پیر حلیل شیرازی اور پیر سید میر قاسم کے مزارات کی تعمیرات کی فوری اجازت دی جائے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل علامہ وحید عباس کاظمی نے جامعہ شہید عارف حسین الحسینی پشاور میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کوہاٹ دھرنے کی حمایت کی اور مطالبہ کیا کہ کلایہ میں بزرگ ہستی سید میر انور بادشاہ، پیر حلیل شیرازی اور پیر سید میر قاسم کے مزارات کی تعمیرات کی فوری اجازت دی جائے۔ عقیدت مندوں کو زیارت سے روکنا انتہائی افسوسناک اقدام ہے۔ صوبائی اور مرکزی حکومت مزارت کی جلد تعمیر کے احکامات صادر کریں۔

انہوں نے صوبہ خیبر پختونخوا میں اربعین کے موقع پر بے بنیاد اور غیر حقیقی ایف آئی آرز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورے صوبے خصوصاً ڈی آئی خان میں چہلم کا جلوس نکالنے پر ایف آئی آر درج کی گئیں، جو مذہبی آزادی کے آئینی حق کے منافی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید اسد زیدی، ضلعی سیکرٹری جنرل علامہ سید غضنفر حسین اور دیگر تین افراد کو ایم پی او 3 کےتحت جیل بھیجنا بدنیتی اور متعصبانہ کاروائی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جلوس میں پیدل چل کر شرکت کو جرم بنا کر کسی عزادار کو جیل بھیجنا ضلع انتظامیہ کے اختیارات سے تجاوز ہے۔ ڈی سی کی اس ہٹ دھرمی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر ہمارے بے گناہ کارکناں کو فوری رہا نہ کیا گیا تو ڈی آئی خان سے باقاعدہ احتجاج کا آغاز کیا جائے گا۔ جسے صوبے بھر میں پھیلا دیا جائے گا۔ حکومت ہمارے بے گناہ قیدیوں کو رہا کرکے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے تاکہ غیر قانونی اقدامات کرنے والے عناصر کو بے نقاب کیا جاسکے۔ اس موقع پر صوبائی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ جہانزیب جعفری، مرکزی رہنماء ایڈووکیٹ آصف رضا، علامہ جان حیدری، ضلعی سیکرٹری جنرل پشاور علامہ سید ذکی الحسن اور دیگر رہنماوں نے بھی شرکت کی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 3 =